امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران
ایران نے کہا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ تہران نے امریکہ سے کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ عمان سے متبادل بحری راستے پر بات چیت جاری ہے

تہران: ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی جاری رکھے گا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری حالات پیدا نہیں ہوں گے۔
تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بقائی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران اور آبنائے ہرمز پر عائد کی گئی شرائط سے جڑا ہوا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، بقائی نے کہا کہ امریکہ کو اپنی تباہ کن کارروائیاں روکنے اور اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں فریق مستقبل کے اقدامات کے بارے میں بات چیت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے درکار حالات پیدا نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق امریکہ کو اپنی موجودہ پالیسی میں تبدیلی لانی ہوگی تاکہ آگے بڑھنے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اسے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ خلیج کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک خام تیل، تیل کی مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کے لیے اس آبی گزرگاہ کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی منڈیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک متبادل سمندری راستہ قائم کرنے کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔ بقائی نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان شپنگ روٹ سے متعلق مذاکرات مکمل طور پر دوطرفہ معاملہ ہیں، جس میں دونوں ممالک شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اتوار کو کہا تھا کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ثالث فریق اب بھی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
عراقچی کے مطابق ایران کے نقطہ نظر سے اس وقت تک مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہو سکتے جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی بند نہیں کرتا اور اپنی سابقہ خلاف ورزیوں کی تلافی نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں ایک نئے بحری راستے کے تعین کے لیے عمان کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ کسی نئے سمندری راستے پر اتفاق کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ان کے مطابق نیا راستہ طے کیا جا سکتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ مشروط رہے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
