
سپریم کورٹ آف انڈیا
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نیٹ-یو جی 2026 کے امتحان کے دوبارہ انعقاد کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے سے متعلق درخواستیں پہلے ہی ایک متعلقہ بنچ کے زیرِ غور ہیں، لہٰذا موجودہ عرضی بھی جولائی میں اسی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی جائے گی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کے روبرو درخواست گزار کی جانب سے معاملے کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ عرضی میں این ٹی اے (نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی)کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ-یو جی امتحان منسوخ کر کے ملک بھر میں تقریباً 22 لاکھ امیدواروں کے لیے دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
Published: undefined
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کی مکمل جانچ اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے، لیکن اس کی قیمت لاکھوں ایسے طلبہ سے نہیں وصول کی جا سکتی جن کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ این ٹی اے کی انتظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی وجہ سے بے قصور امیدواروں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ-یو جی 2026 سے متعلق مقدمات پہلے ہی جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی والی بنچ کے سامنے زیرِ سماعت ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ عرضی کو بھی انہی معاملات کے ساتھ جولائی میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
Published: undefined
عرضی میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں کی اب تک کی جانچ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بے ضابطگیاں مخصوص علاقوں اور محدود گروہوں تک محدود تھیں اور پورے ملک میں امتحانی نظام کے متاثر ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود امتحان منسوخ کرنے اور دوبارہ انعقاد کا فیصلہ لاکھوں امیدواروں کے لیے ذہنی دباؤ، تعلیمی نقصان اور اضافی مالی بوجھ کا سبب بنا ہے۔
Published: undefined
عرضی میں امتحانات کے نظام میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس میں آزاد نگرانی کا مؤثر نظام، بہتر حفاظتی اقدامات، حیاتیاتی شناختی توثیق، خفیہ ڈیجیٹل سوال ناموں کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی جیسے جدید انتظامات شامل ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے۔
Published: undefined
اس سے قبل سپریم کورٹ نے 21 جون کو ہونے والے دوبارہ امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام کے تحت منعقد کرانے کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ امتحان کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں، اس لیے اس وقت امتحانی طریقۂ کار میں تبدیلی مناسب نہیں ہوگی۔ چنانچہ دوبارہ امتحان پہلے سے طے شدہ قلم و کاغذ کے طریقے سے ہی منعقد کیا جائے گا۔
Published: undefined
ادھر این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھشیک سنگھ نے امیدواروں کو یقین دلایا ہے کہ دوبارہ امتحان محفوظ اور شفاف انداز میں منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے طلبہ اور سرپرستوں کو سوشل میڈیا پر سرگرم ایسے عناصر سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا جو مبینہ طور پر افشا شدہ پرچے فروخت کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ امتحان کا کوئی پرچہ افشا نہیں ہوا اور امیدوار افواہوں پر یقین نہ کریں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined