’یو پی ایس سی میں کبھی پیپر لیک نہیں ہوا‘، سپریم کورٹ کا این ٹی اے کو سبق لینے کا مشورہ
نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے این ٹی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ واضح جوابدہی اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کے بغیر مسائل ختم نہیں ہوں گے

نئی دہلی: نیٹ یو جی 2026 کے پیپر لیک معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے) کے کام کاج اور امتحانی نظام میں پائی جانے والی خامیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واضح جوابدہی اور مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے بغیر ایسے مسائل بار بار سامنے آتے رہیں گے۔ عدالت نے مرکز سے یہ بھی پوچھا ہے کہ این ٹی اے میں ایسا مستقل نظام کس طرح قائم کیا جائے گا جو مستقبل میں امتحانات کو کسی داغ کے بغیر منعقد کرنے کے قابل ہو۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ نیٹ یو جی 2026 کی منسوخی اور این ٹی اے کی تنظیمی ساخت سے متعلق عرضیوں کی سماعت کر رہا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ملک میں کئی ادارے عارضی انداز میں کام کرتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت ایسے مضبوط اداروں کی ہے جو افراد کے بجائے مستقل نظام کی بنیاد پر چلیں۔
سماعت کے دوران جسٹس نرسمہا نے کہا کہ جب تک ذمہ داری واضح طور پر طے نہیں ہوگی، مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ کسی ادارے کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا، بلکہ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کون سا فرد کس ذمہ داری کا حامل ہے۔
عدالت نے یونین پبلک سروس کمیشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر امتحانات کے انعقاد کے باوجود وہاں پیپر لیک جیسی صورتحال سامنے نہیں آئی۔ جسٹس نرسمہا نے ریمارکس دیے کہ این ٹی اے کو ایسے اداروں سے سیکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے امتحانی نظام میں اعتماد برقرار رکھا ہے۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر کے رادھا کرشنن بھی عدالت میں موجود تھے، جو 2024 میں قائم کی گئی نگرانی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ عدالت نے ان سے سوال کیا کہ کمیٹی کی سفارشات اور بعد میں کی گئی اصلاحات کے باوجود موجودہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی۔ اس پر ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بتایا کہ کمیٹی نے طویل اور قلیل مدت کی درجنوں سفارشات پیش کی تھیں، جن میں سے بیشتر پر عمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال سامنے آنے والی کمزوریوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور اگلے ماہ مجوزہ دوبارہ امتحان سے پہلے ضروری اصلاحات نافذ کر دی جائیں گی۔ ان کے مطابق کمیٹی نے این ٹی اے میں ماہرین کی کمی کی نشاندہی بھی کی تھی اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے کیونکہ اس کا تعلق لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے تنازعہ کے بعد پورے امتحانی نظام کا ازسرنو جائزہ لیا گیا اور نئی کمزوریوں کی نشاندہی کے بعد اصلاحی اقدامات کیے گئے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبہ کی محنت، وقت اور جذبات کا احترام ضروری ہے۔ جسٹس نرسمہا نے کہا کہ لاکھوں نوجوان برسوں کی تیاری کے بعد امتحان دیتے ہیں اور ایسے واقعات ان کے لیے شدید ذہنی صدمے کا باعث بنتے ہیں۔ عدالت نے امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مستقل نگرانی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مسلسل تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
