قومی خبریں

نیٹ یو جی 2026: ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے آرین گپتا نے بتایا کامیابی کا راز

نیٹ یو جی 2026 میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے آرین گپتا نے اپنی کامیابی کا راز مسلسل محنت، صبر، اساتذہ کی رہنمائی اور خاندان کے تعاون کو قرار دیا۔ ان کی جدوجہد ایک حوصلہ افزا مثال بن گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>اپنے والدین کے ساتھ آرین گپتا / آئی اے این ایس</p></div>

اپنے والدین کے ساتھ آرین گپتا / آئی اے این ایس

 

نیٹ یو جی 2026 کے نتائج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ مستقل مزاجی، مثبت سوچ اور خاندانی تعاون کے ساتھ بڑے سے بڑا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے شہر لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے آرین گپتا نے ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ لاکھوں طلبہ کے لیے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ امتحانات میں پیش آنے والی مشکلات اور غیر متوقع حالات بھی کسی طالب علم کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتے، اگر وہ اپنے مقصد کے لیے پوری لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرتا رہے۔

آرین گپتا نے 720 میں سے 715 نمبر حاصل کیے۔ ان کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جہاں کئی افراد طب کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ بچپن سے ہی ان کے گھر میں ڈاکٹر بننے کا ماحول رہا، جس نے ان کے خواب کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ تاہم، وہ اپنی کامیابی کو صرف خاندانی پس منظر کا نتیجہ نہیں بلکہ دو برس کی انتھک محنت، نظم و ضبط اور پختہ ارادے کا ثمر قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نیٹ کی تیاری کے دوران انہوں نے کلاس میں پڑھائے گئے مضامین کو پوری توجہ سے سمجھا اور گھر واپس آ کر روزانہ ان کا اعادہ کیا۔ ان کے مطابق کسی بھی مسابقتی امتحان میں کامیابی کے لیے کوئی شارٹ کٹ موجود نہیں ہوتا بلکہ روزانہ کی محنت، صبر اور اپنے ہدف پر توجہ ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔

آرین کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ امتحان کے طریقۂ کار میں تبدیلی اور دوبارہ امتحان کے اعلان نے انہیں بھی دیگر طلبہ کی طرح پریشان کیا۔ دو برس کی تیاری کے بعد جب انہوں نے اپنی کتابیں بند کر دی تھیں تو دوبارہ امتحان کی خبر ان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی۔ تاہم، انہوں نے مایوسی کے بجائے اسے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع سمجھا۔ پہلی مرتبہ ان کے 696 نمبر آئے تھے جبکہ دوبارہ امتحان میں انہوں نے 715 نمبر حاصل کیے۔ ان کے مطابق دوسرا امتحان پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل تھا، لیکن انہیں اپنی محنت پر مکمل یقین تھا۔

انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے اساتذہ، خاندان اور خاص طور پر اپنے بڑے بھائی آدتیہ گپتا کے سر باندھا۔ ان کے بڑے بھائی نے نیٹ کی تیاری کے دوران انہیں درست سمت دکھائی اور امتحان کی حکمت عملی سمجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ان کے بڑے بھائی ہی ان کے لیے سب سے بڑی تحریک اور رول ماڈل رہے ہیں۔

آرین کی والدہ رینو گپتا نے کہا کہ بچوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں بہتر ماحول، اعتماد اور تعاون فراہم کرنا زیادہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر بچہ خود محنت کرنے کے لیے تیار ہو تو والدین کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اسے مثبت اور پُرسکون ماحول فراہم کریں۔ ان کی سب سے بڑی خوشی یہی ہے کہ ان کے بچے خوش، مطمئن اور صحت مند رہیں۔

ان کے والد سچن گپتا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے کبھی اپنے بچوں پر کسی مخصوص پیشے کے انتخاب کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ آرین ریاضی میں بھی اچھی صلاحیت رکھتے تھے اور ان کے پاس دیگر شعبوں میں جانے کے مواقع موجود تھے، لیکن انہوں نے اپنی دلچسپی کی بنیاد پر طب کے شعبے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آرین نے تیاری کے دوران اپنی معمول کی زندگی کو بھی متوازن رکھا، دوستوں سے ملتے رہے، کھیلتے رہے اور اہل خانہ کے ساتھ وقت بھی گزارتے رہے، لیکن جب پڑھائی کا وقت ہوتا تھا تو پوری یکسوئی کے ساتھ اس میں مصروف ہو جاتے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔