قومی خبریں

مفت والی اسکیموں پر نارائن مورتی کی شدید تنقید، کہا، ’غریبی روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے دور ہوگی‘

انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتی نے کاروباریوں سے زیادہ کمپنیاں اور کاروبار بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کہی ہے۔ سپریم کورٹ بھی مفت والی چیزوں کے بڑھتے رواج پر اعتراض ظاہر کر چکی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>نارائن مورتی/ تصویر سوشل میڈیا</p></div>

نارائن مورتی/ تصویر سوشل میڈیا

 

حکومتوں کے ذریعہ لوگوں کو مفت میں چیزیں دینے کے معاملے میں ملک بھر میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں انفوسس کے شریک بانی این آر نارائن مورتی کا بھی اس سلسلے میں رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے فری بیز یعنی مفت میں چیزیں دینے کے رواج کی سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح سے نہیں، بلکہ روزگار کے مواقع تیار کرنے سے ملک سے غریبی دور ہوگی۔

Published: undefined

مورتی نے بدھ کو ایک تقریب میں کہا کہ مفت کی چیزوں سے غریبی دور نہیں ہوگی بلکہ یہ اختراعی کاروباریوں کے روزگار تیار کرنے سے ختم ہوگی۔ ٹائیکان ممبئی-2025 پروگرام میں مورتی نے کاروباریوں سے زیادہ کمپنیاں اور کاروبار بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نئے نئے طرح کے کاروبار بنانے میں اہل ہیں تو غریبی دھوپ والی صبح میں شبنم کی طرح غائب ہو جائے گی۔

Published: undefined

نارائن مورتی نے کاروباریوں کے گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "مجھے اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ آپ میں ہر ایک شخص سینکڑوں، ہزاروں نوکریاں پیدا کرے گا اور اسی طرح آپ غریبی کے مسئلہ کا حل کریں گے۔ آپ مفت کے گفٹ دے کر غریبی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے، کوئی بھی ملک اس میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔"

Published: undefined

مورتی نے واضح کیا کہ انہیں سیاست یا حکومت کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہے، لیکن انہوں نے پالیسی پر مبنی ڈھانچے کے نظریہ سے کچھ سفارشیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فائدہ کے بدلے میں حالات میں سدھار کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔ فی ماہ 200 یونٹ تک مفت بجلی کی مثال دیتے ہوئے مورتی نے کہا کہ ریاست میں ایسے گھروں میں چھ مہینے کے آخر میں جائزہ کرکے یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچے زیادہ پڑھ رہے ہیں یا نہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی مفت کی ریوڑی کے بڑھتے رواج پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے لوگ کام کرنے کو تیار نہیں ہو رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined