ایران سے جنگ کے لیے روانہ امریکی جنگی جہاز ’بیت الخلاء کے بحران‘ کا شکار، فوجیوں کو 45 منٹ تک قطار میں کرنا پڑ رہا انتظار
تقریباً 13 ارب ڈالر یعنی 1.18 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے بنے طیارہ بردار بحری جہاز پر 4600 بحری اہلکاروں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس میں کئی بیت الخلاء خراب پڑے ہیں۔

ایران پر حملے کی تیاری میں مشرق وسطیٰ پہنچ رہے امریکہ کے دوسرے ایئرکرافٹ کیریئر ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس بحری بیڑے پر تعینات تقریباً 4000 فوجیوں کو ٹوائلٹ (بیت الخلاء) کی کمی اور چوک سیویج سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت بگڑنے لگی ہے۔ حالت یہ ہے کہ یو ایس ایس فورڈ کے عملے کو بیت الخلاء کے لیے 45 منٹ تک طویل قطاروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی طاقت کے مظاہرے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تاریخ کا مہنگا ترین طیارہ بردار بحری جہاز اپنے ہی عملے کو بنیادی صفائی ستھرائی کی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تقریباً 13 ارب ڈالر یعنی 1.18 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے بنے اس جہاز پر 4600 بحری اہلکاروں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس میں کئی بیت الخلاء خراب پڑے ہیں۔ یہ مسئلہ جہاز کے ویکیوم کلیکشن، ہولڈنگ اینڈ ٹرانسفر سسٹم سے منسلک ہے، جو کروز جہازوں سے متاثر ہو کر بنایا گیا اور کم پانی کا استعمال کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2023 سے اب تک 42 بار بیت الخلاؤں کی مرمت کے لیے بیرونی مدد طلب کی گئی ہے۔ 2025 میں اس حوالے سے 32 بار شکایات درج ہوئیں۔ ایک ای میل کے مطابق محض 4 دنوں میں 205 بریک ڈاؤن ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ انجینئرنگ ٹیم کو 19-19 گھنٹے کی شفٹوں میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں کئی بار 90 فیصد بیت الخلاء کام نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بحری اہلکاروں کو 45 منٹ تک قطار میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں کے درمیان، ’ٹوائلٹ کرائسز‘ (بیت الخلا کا بحران) امریکی بحریہ کی تیاریوں پر سوال اٹھا رہا ہے۔ دنیا کا سب سے طاقتور طیارہ بردار بحری جہاز دشمن سے پہلے اپنے ہی بیت الخلاؤں کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ جنگی تیاریوں کے دوران امریکی بحری اہلکاروں کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں ان کی صحت خراب ہونے کی وجہ سے ایران پر حملہ کرنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔