قومی خبریں

’میری رِہائی کوئی معنی نہیں رکھتی، یہ لڑائی پورے لداخ کی ہے‘، سونم وانگچک نے پریس کانفرنس سے کیا خطاب

رہائی کے بعد حکومت کی جانب سے بات چیت کی پیشکش پر وانگچُک نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پیشکش سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’وِن-وِن صورتحال‘ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سونم وانگچت، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سونم وانگچت، تصویر قومی آواز/ویپن

 

لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچُک نے 17 مارچ کو راجدھانی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی صرف ان کی نہیں بلکہ پورے لداخ کی ہے۔ وہ جیت اسی وقت مانیں گے جب لداخ کا حقیقی بھلا ہوگا۔ ان کے مطابق لداخ کے مفادات کی جدوجہد صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ وہاں کے تمام لوگوں کی لڑائی ہے۔ پریس کانفرنس میں ان کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو بھی موجود تھیں۔ وانگچُک تقریباً 6 ماہ حراست میں رہنے کے بعد حال ہی میں رہا ہوئے ہیں۔

Published: undefined

سونم وانگچُک کا کہنا ہے کہ جیل میں رہتے ہوئے بھی انہیں پورا یقین تھا کہ انصاف ملے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں معلوم تھا کہ عدالت میں ہماری جیت ہوگی اور جیل میں بھی یہی یقین قائم رہا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں جیل سے باہر آ گیا ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری رہائی کوئی مسئلہ ہی نہیں تھی۔ میں ذاتی جیت کو اہم نہیں سمجھتا۔ میرے لیے اصل کامیابی تب ہوگی جب لداخ کے لوگوں کے مطالبات پورے ہوں گے اور وہاں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے گا۔ جیل میں رہتے ہوئے بھی مجھے پورا یقین تھا کہ انصاف ملے گا اور عدالت میں جیت ہوگی۔‘‘

Published: undefined

رہائی کے بعد حکومت کی جانب سے بات چیت کی پیشکش پر وانگچُک نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پیشکش سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’وِن-وِن صورتحال‘ ہے، اس سے حکومت بھی اچھی نظر آئے گی اور ہم بھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے مذاکرات کے لیے تیار تھے، تحریک سے لے کر جیل تک ہمارا صرف ایک مقصد تھا کہ لداخ کے مسائل پر بات چیت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خود کو ذہنی طور پر پورے ایک سال جیل میں رہنے کے لیے تیار کر لیا تھا۔ ان کے مطابق جیل میں اپنا موقف پیش کرنا مشکل تھا اور اپنی بات وکیلوں اور صحافیوں تک پہنچانا بھی آسان نہیں تھا، لیکن وہاں لوگ مہربان تھے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ میں پیش آئے تشدد کی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا ہوا اور تشدد کیسے بھڑکا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لداخ میں ایسا ماحول دوبارہ قائم کرنا ضروری ہے جو وہاں کے لوگوں کے مفاد میں ہو۔

Published: undefined

وانگچُک کا کہنا ہے کہ ’’ہم بھوک ہڑتال نہیں کرنا چاہتے، لیکن مجبوری میں ایسا کرنا پڑتا ہے اور یہ ہم نے گاندھی جی سے سیکھا ہے۔ ہر شخص کو کم از کم ایک بار جیل ضرور جانا چاہیے اور وہاں نہرو جی کی لکھی کتابیں پڑھنی چاہئیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’انہوں نے بتایا کہ جیل میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور سب کچھ برا بھی نہیں تھا۔ وہاں قیدیوں کا ایک بینڈ بھی ہوتا ہے جسے باہر جا کر پرفارم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور انہیں اس کے لیے معاوضہ بھی ملتا ہے۔‘‘ جیل کے کھانے کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’جیل کا کھانا مجھے برا نہیں لگا، وہاں مجھے مونگ اور چنے ملتے تھے۔ جیل میں تقریباً 70 فیصد لوگ غریب اور ناخواندہ طبقے سے ہیں، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ جیل کیوں جا رہے ہیں اور انہیں کون بھیج رہا ہے۔ سبھی کو تعلیم دینے اور نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ مرکزی حکومت اور وانگچُک، دونوں جانب سے بات چیت کے اشارے مل رہے ہیں، لیکن لداخ کے بنیادی مطالبات، مثلاً چھٹے شیڈول، ریاست کا درجہ اور ماحولیاتی تحفظ اب بھی حل طلب ہیں۔ وانگچُک کی رہائی کے بعد اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ مرکز اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کب اور کیسے آگے بڑھتی ہے۔ 14 مارچ کو مرکزی وزارت داخلہ نے سونم وانگچُک پر عائد قومی سلامتی قانون ہٹا لیا تھا، جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہو سکی۔ وہ مجموعی طور پر 170 دنوں تک جودھپور جیل میں رہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے تحریک کے دوران مقامی لوگوں کو تشدد کے لیے اُکسایا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined