فالٹا اسمبلی سیٹ سے پارٹی کے امیدوار جہانگیر خان نے واپس لیا نام، ٹی ایم سی کا بی جے پی پر دباؤ ڈالنے کا الزام
جہانگیر خان نے کہا کہ ’’ہمارے وزیر اعلیٰ فالٹا کی ترقی کے لیے ایک خصوصی پیکج فراہم کرا رہے ہیں، اس لیے فالٹا کے عوام کے مفاد میں جمعرات کو ہونے والے دوبارہ انتخاب سے اپنا نام واپس لے رہا ہوں۔‘‘

مغربی بنگال کے فالٹا اسمبلی حلقہ میں 21 مئی کو پھر سے ووٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ ووٹنگ سے محض 48 گھنٹے قبل ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے امیدوار جہانگیر خان نے انتخابی میدان سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنا نام واپس لے رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ نام واپسی کا اعلان کرتے ہوئے جہانگیر خان نے کہا کہ ’’ہمارے وزیر اعلیٰ فالٹا کی ترقی کے لیے ایک خصوصی پیکج فراہم کرا رہے ہیں، اس لیے فالٹا کے عوام کے مفاد میں جمعرات کو ہونے والے دوبارہ انتخاب سے اپنا نام واپس لے رہا ہوں۔‘‘
واضح رہے کہ حالیہ اختتام پذیر اسمبلی انتخاب کے دوران جہانگیر خان کافی سرخیوں میں رہے تھے۔ انتخاب کے دوران یوپی کے معروف آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کی بطور آبزرور تعیناتی پر سوال کھڑے کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ بنگال ہے اگر وہ (اجے پال شرما) سنگھم ہیں تو میں پشپا ہوں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا تھا۔ دراصل انتخاب میں ڈیوٹی لگنے کے بعد آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کو سنگھم کہا گیا تھا۔ انہوں نے جہانگیر خان کے اہل خانہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اسے بتا دینا اگر اس کے آدمی دھمکی دیتے رہے تو ہم اس سے اچھی طرح نمٹیں گے، پھر رونا یا پچھتانا مت۔‘‘ اس کے جواب میں جہانگیر نے خود کو پُشپا بتایا تھا۔
جہانگیر خان کے بیان کے بعد ترنمول کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امیدوار کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، پارٹی کا نہیں۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں الزام لگایا گیا کہ 4 مئی کو انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد صرف فالٹا اسمبلی حلقے میں ترنمول کانگریس کے ایک سو سے زیادہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
ترنمول کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، کئی دفاتر پر زبردستی قبضہ کیا گیا اور کارکنوں کو مسلسل ڈرایا دھمکایا گیا۔ پارٹی کے مطابق بار بار شکایت کے باوجود الیکشن کمیشن نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی اور صورتحال پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شدید دباؤ اور سرکاری ایجنسیوں کی کارروائیوں کے باوجود ترنمول کانگریس کے کارکن چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مبینہ دھمکیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ کچھ لوگ آخرکار اس دباؤ کے سامنے جھک گئے اور انہوں نے انتخابی میدان چھوڑنے کا فیصلہ کیا، جس کی پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔
ترنمول کانگریس نے بی جے پی کو ’بنگال مخالف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال سے لے کر دہلی تک اس کے خلاف سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ فالٹا ڈائمنڈ ہاربر لوک سبھا حلقہ کے تحت آتا ہے، جس کی نمائندگی ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کر رہے ہیں۔ جہانگیر خان، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے فالٹا اسمبلی انتخاب کے لیے کوئی ریلی یا جلسۂ عام منعقد نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب مغربی بنگال کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے منگل (19 مئی) کو فالٹا اسمبلی حلقہ میں 21 مئی کو ہونے جا رہی دوبارہ ووٹنگ سے قبل انتخابی مہم کے آخری روز ایک روڈ شو کیا۔ اس دوران لوگوں کی کافی بھیڑ جمع رہی۔ بی جے پی نے فالٹا اسمبلی حلقہ سے دیبانشو پانڈا کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ جہانگیر خان کے میدان سے ہٹنے کے بعد بی جے پی امیدوار کی جیت یقینی مانی جا رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
