قومی خبریں

منی لانڈرنگ کیس: لالو یادو اور اہلِ خانہ کے خلاف الزامات عائد کرنے پر عدالت کا فیصلہ مؤخر

دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے آئی آر سی ٹی سی ہوٹل کے مبینہ گھوٹالہ سے جڑے منی لانڈرنگ کیس میں لالو یادو، اہلِ خانہ اور دیگر ملزمان کے خلاف الزامات عائد کرنے پر فیصلہ مؤخر کر دیا

<div class="paragraphs"><p>لالو پرساد اور تیجسوی یادو / آئی اے این ایس</p></div>

لالو پرساد اور تیجسوی یادو / آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر ملزمان کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کے معاملے میں الزامات عائد کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ پیر کو مؤخر کر دیا۔ یہ معاملہ آئی آر سی ٹی سی ہوٹل کے مبینہ گھوٹالہ سے متعلق ہے، جس کی منی لانڈرنگ کے پہلو سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) تحقیقات کر رہا ہے۔

راؤز ایونیو کورٹ کو آج اس معاملے میں الزامات طے کرنے سے متعلق اپنا حکم سنانا تھا، تاہم عدالت نے فیصلہ مؤخر کر دیا۔ اب امکان ہے کہ عدالت 10 ستمبر کو اس معاملے میں فیصلہ سنائے گی۔

ای ڈی کا مقدمہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے درج کیے گئے آئی آر سی ٹی سی ہوٹل کے مبینہ گھوٹالہ سے حاصل ہونے والی ’قانونی آمدنی‘ کی منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ ای ڈی نے عدالت میں مقدمے کے سلسلے میں اپنی کارروائی مکمل کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف الزامات طے کیے جانے کی بنیاد موجود ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ لالو پرساد یادو کے 2004 سے 2009 کے دوران ریلوے کا وزیر رہنے کے زمانے میں آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے ٹھیکے دینے میں بے ضابطگیاں کی گئی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق، ہوٹلوں کی دیکھ بھال کے ٹھیکے مبینہ طور پر مقررہ ضابطوں کی پابندی کیے بغیر ایسی نجی کمپنی کو دیے گئے تھے، جس کے تعلقات آر جے ڈی سربراہ کے قریبی ساتھیوں سے بتائے جاتے ہیں۔

ای ڈی کا مزید الزام ہے کہ ان ٹھیکوں کے عوض لالو پرساد یادو کے اہلِ خانہ اور قریبی ساتھیوں سے مبینہ طور پر وابستہ ایک بے نامی کمپنی کے ذریعے تقریباً 3 ایکڑ قیمتی اراضی حاصل کی گئی تھی۔ اس معاملے میں لالو پرساد یادو کے علاوہ ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، بیٹے تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو، بیٹیاں میسا بھارتی اور ہیما یادو سمیت دیگر افراد بھی ملزم ہیں۔ مجموعی طور پر 16 افراد اس معاملے میں ملزمان کے طور پر نامزد کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل خصوصی عدالت نے ملزمان اور ای ڈی کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد الزامات طے کرنے سے متعلق اپنا حکم محفوظ کر لیا تھا۔ عدالت کے سامنے اب یہ سوال ہے کہ دستیاب مواد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف باقاعدہ طور پر کن الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے یا انہیں اس مرحلے پر ڈسچارج کیا جائے۔

ادھر دہلی ہائی کورٹ میں بھی لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کی جانب سے دائر فوجداری نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت ہو رہی ہے۔ ان درخواستوں میں اسی مبینہ اسکینڈل سے متعلق بدعنوانی کے مقدمے میں نچلی عدالت کی جانب سے ان کے خلاف الزامات طے کرنے کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔

لالو پرساد یادو اور ان کے اہلِ خانہ ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی آر سی ٹی سی ہوٹلوں کے ٹینڈر منصفانہ اور شفاف طریقے سے دیے گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔