ساگر شراب معاملہ: زہریلی شراب سے ہوئی تھیں 14 اموات، اب 20 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج، 5 افسران معطل

پولیس کے مطابق 5 ستمبر کی رات شراب پینے کے بعد بنڈہ اور آس پاس کے گاؤں میں کئی لوگوں کی طبیعت بگڑ گئی، اس کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>شراب کی علامتی تصویر،  آئی اے این ایس</p></div>
i

مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع واقع بنڈہ علاقے میں مبینہ زہریلی شراب پینے سے ہوئیں اموات کے معاملے میں پولس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ بنڈہ تھانے میں 20 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ملزمین پر بی این ایس کی مختلف دفعات کے ساتھ آبکاری ایکٹ کی دفعہ 49-اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس اب شراب کی تیاری، ملاوٹ اور سپلائی نیٹورک کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ پولیس کے مطابق 5 ستمبر کی رات شراب پینے کے بعد بنڈہ اور آس پاس کے گاؤں میں کئی لوگوں کی طبیعت بگڑ گئی تھی، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اب تک 14 اموات کی اطلاع سامنے آئی ہے، جبکہ 84 مریضوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے، ان میں سے ایک مریض کو نازک حالت میں ایئرلفٹ کر کے ایمس بھوپال منتقل کیا گیا ہے۔

نوراج گاؤں باشندہ 52 سالہ انوپ سنگھ لودھی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اس میں ججھار لودھی، دنیش لودھی، سوربھ لودھی، گووند لودھی، منوہر لودھی، یشونت سنگھ، منیش لودھی، اشیش ساہو، آکاش رائے، رحیم خان، ستیم، آشا رام، اروند، رویندر، روہت، ماکھن، انیکیت گندھرو، منگل رجک، وشال لودھی اور راجا سنگھ کے نام شامل ہیں۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ علاقے میں چھپ کر غیر قانونی شراب فروخت کی جارہی ہے۔ شکایت کے مطابق 4 ستمبر کی شام انوپ سنگھ اپنے بھتیجے راجندر سنگھ لودھی کے ساتھ ججھار لودھی کی دکان پر گیا تھا۔ وہاں انہیں ایک اور سستے برانڈ کی شراب کے بارے میں بتایا گیا۔ راجندر کو شبہ تھا کہ شراب نقلی یا زہریلی ہے، لیکن مبینہ طور پر اسے نیا برانڈ بتا کر بھروسہ دلایا گیا۔ اس کے بعد اس نے 70 روپے میں ایک چوتھائی دیسی شراب خریدی اور استعمال کیا۔ طبیعت بگڑنے پر اسے بنڈہ اسپتال داخل کرایا گیا، جہاں سے ساگر ریفر کر دیا گیا اور علاج کے دوران راجندر کی موت ہوئی گئی۔


اس معاملے میں ریاستی حکومت نے محکمۂ آبکاری کے افسران پر بھی کارروائی کی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ایکسائز ساگر کیرتی دوبے، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایکسائز آفیسر دلیپ کھنڈاتے اور بنڈہ علاقے کی ایکسائز سب انسپکٹر پروشنی اریتی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈویژنل فلائنگ اسکواڈ انچارج نیرجا سریواستو کو ہیڈ کوارٹر گوالیار اٹیچ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گگرا چوکی کے انچارج اور بانڈہ تھانے کے انچارج کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ زیر علاج مریضوں میں 59 بندیل کھنڈ میڈیکل کالج، 17 ضلع اسپتال اور 7 بنڈہ سول اسپتال میں داخل ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق جن مریضوں کی حالت نازک ہے، ان پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

نائب وزیر اعلی راجندر شکل دیر رات بنڈہ پہچے اور افسران کے ساتھ میٹنگ کرکے پورے معاملے کی جانکاری حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو مبینہ ملاوٹ شدہ شراب کے منبع تک پہنچنا چاہیے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ حکومت کے مطابق ساگر ضلع میں غیر قانونی شراب کے خلاف مہم تیز کی گئی ہے۔ تقریباً 6 ہزار لیٹر غیر قانونی شراب ضبط کرنے اور 20 سے 25 افراد کے خلاف ضلع بدر کرنے کی کارروائی کی اطلاع دی گئی ہے۔ فی الحال پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ شراب کہاں تیار کی گئی، اس میں کس قسم کی ملاوٹ کی گئی اور سپلائی نیٹ ورک میں کون لوگ شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔