ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک لندن میں موجود 2 گھر ہو رہے فروخت، قیمت 460 کروڑ روپے
سرکاری زمین کے ریکارڈ کے مطابق دونوں گھروں کا مالکانہ حق ایرانی تاجر علی اکبر انصاری کے نام ہے۔ ’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق انصاری نے ان کو خریدنے کے لیے پرائیویٹ قرض دہندگان سے لون لیا تھا۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک بتائے جا رہے لندن کے 2 لگزری فلیٹس اب فروخت ہونے کے لیے مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔ ان دونوں گھروں کی قیمت تقریباً 36 ملین پاؤنڈ (460 کروڑ روپے) بتائی جا رہی ہے۔ حالانکہ سرکاری زمین کے ریکارڈ کے مطابق ان دونوں گھروں کا مالکانہ حق ایرانی تاجر علی اکبر انصاری کے نام ہے۔ ’دی ٹیلی گراف‘ اور ’دی سنڈے ٹائمز‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انصاری نے ان جائیدادوں کو خریدنے کے لیے پرائیویٹ قرض دہندگان سے لون لیا تھا۔ لون کی قسطیں نہ چکا پانے کے بعد قرض دہندگان نے اپنی رقم کی وصولی کے لیے وصول کنندگان (ریسیورز) مقرر کیا۔
واضح رہے کہ اب انہی ریسیورز کی نگرانی میں دونوں فلیٹس کو فروخت کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ ان میں سے ایک پینٹ ہاؤس کو سوتھبیز اور نائٹ فرینک تقریباً 12 ملین پاؤنڈ (تقریباً 153 کروڑ روپے) میں فروخت کر رہے ہیں۔ یہ پراپرٹی 3اے پیلس گرین کی چھٹی اور ساتویں منزل پر ہے۔ تقریباً 3944 مربع فیٹ میں پھیلے اس 5 بیڈ روم والے پینٹ ہاؤس میں اسٹاف کے لیے الگ رہنے کی جگہ اور کنسنگٹن پیلس کے نظارے والا بڑا روف ٹیرس بھی ہے۔ سرکاری زمین کے ریکارڈ کے مطابق انصاری نے یہ پینٹ ہاؤس 2016 میں تقریباً 19 ملین پاؤنڈ میں خریدا تھا۔
دوسری پراپرٹی 2014 میں 16.75 ملین پاؤنڈ میں خریدی گئی تھی۔ دونوں فلیٹس پرنس اور پرنسس آف ویلس کے سرکاری گھر کے پاس ہے۔ نائٹ فرینک کی فروخت سے متعلق معلومات میں لکھا ہے کہ پراپرٹی ریسیور شپ میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پراپرٹی کی دیکھ ریکھ اور فروخت کی ذمہ داری ریسیورز کے پاس ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے پاس پراپرٹی سے متعلق معلومات نہیں ہے، اس لیے خریداروں کو ضرورری جانچ پڑتال خود کرنے چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ علی انصاری پر برطانیہ اور امریکہ نے ایران کے اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کو مبینہ معاشی مدد دینے کے الزام میں پابندیاں عائد کی ہیں۔ برطانوی حکومت نے اکتوبر 2025 میں ان پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کی جائیداد منجمد کرنے، سفر پر روک لگانے اور ڈائریکٹر بننے سے روکنے جیسے قدم اٹھائے تھے۔ برطانیہ کے سابق وزیر برائے مشرقی وسطیٰ ہیمش فالکنر نے کہا تھا کہ انصاری نے آئی آر جی سی کی سرگرمیوں کو مالی مدد فراہم کرنے مین اہم کردار ادا کیا تھا۔
امریکی افسران نے بھی علی انصاری پر ایران سے حاصل کردہ دولت کے ذریعہ بیرون ملک جائیدادوں اور کاروبار کا ایک بڑا نیٹورک قائم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انصاری کا لندن میں 140 ملین پاؤنڈ سے زیادہ کا پراپرٹی پورٹ فولیو ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان فلیٹس کی فروخت سے ملنے والی رقم کو پابندیوں کے باعث حکومت منجمد کر سکتی ہے۔ حالانکہ فروخت کی حتمی قیمت اور اس سے منسلک قانونی عمل کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
