’ایسا کیا گناہ کیا تھا کہ انہیں گولی مار دی گئی؟‘ بہار طلبہ تحریک کے زخمیوں سے ملاقات کی ویڈیو شیئر کر راہل گاندھی کا سوال
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’وزیر اعظم جی، وزیر اعلیٰ جی، طلبہ کی ٹوٹی ہوئی ہڈی تو جڑ جائے گی۔ کیا آپ ان کا ٹوٹا ہوا خواب واپس لا سکتے ہیں؟‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعرت (3 ستمبر) کو بہار طلبہ تحریک کے دوران زخمی ہوئے نوجوانوں سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران راہل گاندھی نے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے رہنے اور ان کی ہر ممکن مدد کرنے کا یقین بھی دلایا تھا۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر طلبہ سے ملاقات کی چند تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔ آج انہوں نے اس ملاقات کی ایک ویڈیو شیئر کر حکومت کو ایک بار پھر ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کر لکھاکہ ’’سوچیے، ایسا کیا گناہ کیا تھا ان بچوں نے کہ انہیں گولی مار دی گئی؟ انہوں نے حکومت سے صرف 3 چیزوں کا مطالبہ کیا تھا، تعلیم روزگار اور جوابدہی۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک طالب علم کے پیر کی ہڈی اے کے-47 کی گولی سے ٹوٹ گئی۔ فوج میں جا کر ملک کی خدمت کرنے کا اس کا خواب بھی اسی کے ساتھ چکنا چور ہو گیا۔ مزید 2 طلبہ کے کندھوں کو چیرتی ہوئی گولیاں نکل گئیں۔‘‘ ان کے مطابق یہ مجرم نہیں تھے۔ یہ غریب گھرانوں کے وہ بچے تھے جو اپنے خاندان کے خواب لے کر پڑھنے نکلے تھے، کسی کو اچھی ملازمت حاصل کرنی تھی، تو کسی کو اپنے گھر کے حالات بدلنے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’گولی کے زخم تو بھر جائیں گے، لیکن جو خوف ان بچوں کے دل میں بیٹھ گیا ہے، اس کا علاج کس اسپتال میں ہوتا ہے؟ وزیر اعظم جی، وزیر اعلیٰ جی، ان کی ٹوٹی ہوئی ہڈی تو جڑ جائے گی۔ کیا آپ ان کا ٹوٹا ہوا خواب واپس لا سکتے ہیں؟‘‘
قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے 3 ستمبر کو زخمی طلبہ سے ملاقات کے بعد ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’بہار کے ان طلبہ اور نوجوانوں سے ملاقات کی، جنہوں نے صرف امتحانی نظام میں دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانے پر پولیس کی شدید بربریت کا سامنا کیا۔ پولیس کی لاٹھیوں، اے کے-47 اور پستول سے چلائی گئی گولیوں نے کئی طلبہ کو زخمی کر دیا۔ فوج میں شامل ہو کر ملک کی خدمت کرنے کی خواہش رکھنے والے ایک نوجوان کا پیر اے کے-47 سے گولی مار کر توڑ دیا، ساتھ ہی ان کی زندگی کا خواب بھی۔‘‘ اپنی پوسٹ میں راہل گاندھی یہ بھی لکھا تھا کہ ’’یہ نوجوان صرف غیرجانبدارانہ مواقع، شفاف امتحانی نظام اور اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایسے مطالبے پر لاٹھیاں اور گولیاں چلانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے مطابق اتنی بڑی بربریت کی ذمہ داری صرف چند چھوٹے افسران پر ڈال کر حکومت بچ نہیں سکتی۔ یہ کارروائی یا تو اوپر کے حکم کا نتیجہ ہے یا پھر اقتدار کی بدترین ناکامی۔ راہل گاندھی نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ کے آخر میں لکھا تھا کہ ’’بہار حکومت کچھ بھی کر لے، میں ان نوجوانوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ان کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ بی جے پی یاد رکھے، نوجوانوں کی آواز دبانے والی ہر حکومت کو ایک دن عوام کے سامنے جواب دینا پڑتا ہے۔ وہ دن اب دور نہیں ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
