
تصویر بشکریہ کانگریس ہییڈکوارٹر
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے یو پی آئی ادائیگیوں پر حکومت کی جانب سے مجوزہ ’ایم ڈی آر ٹیکس‘ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر کہا ہے کہ ’’حکومت نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور اسے بھاری رقم کمانے کا موقع دے دیا ہے۔‘‘ اس ویڈیو میں انھوں نے مرکز کی مودی حکومت سے فوری طور پر اس ٹیکس کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے 2000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد چارج عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو کہ 15 اکتوبر سے نافذ ہوگا۔ تاہم یہ ادائیگی صارف کو نہیں کرنی ہوگی بلکہ کمپنی یا دکان کو یہ چارج دینا ہوگا۔ حالانکہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس اضافی ٹیکس کا بوجھ عام لوگوں کے کندھوں پر ہی آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی نے حکومت کے فیصلہ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اندرا گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایک بار اندرا جی سے پوچھا گیا تھا کہ وہ بائیں طرف جھکتی ہیں یا دائیں طرف۔ اس پر اندرا جی نے کہا تھا کہ میں تن کر کھڑی رہتی ہوں۔ لیکن نریندر مودی کا تصور بالکل مختلف ہے، وہ نہ بائیں ہیں اور نہ دائیں، انہوں نے براہ راست ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے لیٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مودی جی نے یو پی آئی پر ٹیکس لگا کر ہر ہندوستانی پر ٹیکس لگا دیا ہے اور امریکہ کو بھاری رقم دے دی ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ وزیر اعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’مودی جی، براہ کرم امریکہ کے سامنے لیٹنا بند کیجیے، کچھ ہمت دکھائیے، کھڑے ہو جائیے اور یو پی آئی ٹیکس واپس لیجیے۔‘‘
اس سے قبل بھی راہل گاندھی نے کہا تھا کہ مودی حکومت نے خاموشی سے یو پی آئی پر فیس عائد کرنے کی راہ کھول دی ہے۔ منگل کو ایک ’ایکس‘ پوسٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ اب 2000 روپے سے زیادہ کے مرچنٹ یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کیا جا سکتا ہے۔ ان لین دین کی تعداد اگرچہ صرف 5 فیصد ہو، لیکن یو پی آئی کی مجموعی لین دین کی مالیت کا تقریباً 65 فیصد انہی میں شامل ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ صارف سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ لیکن دکاندار پر عائد ہونے والی فیس آخر آئے گی کہاں سے؟ قیمتوں میں شامل ہو کر صارف کی جیب سے۔
بہرحال، راہل گاندھی کی تازہ ویڈیو پوسٹ کو کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی شیئر کیا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران لگاتار مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کانگریس کے مطابق کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یو پی آئی کو چلانے کے لیے ہر سال 20,700 کروڑ روپے درکار ہیں اور اس کے لیے حکومت کے پاس رقم نہیں ہے۔ لیکن مالی سال 26-2025 میں آر بی آئی نے مودی حکومت کو 3 لاکھ کروڑ روپے کا سرپلس منتقل کیا۔ ملک کے لسٹیڈ بینکوں کا منافع 4.11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ یو پی آئی چلانے والی این پی سی آئی کا پری ٹیکس منافع 1,888 کروڑ روپے ہے۔ یعنی آر بی آئی کی جانب سے حکومت کو دی جانے والی رقم کے محض 7.2 فیصد حصے سے پورا یو پی آئی چلایا جا سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔