ایم سی ڈی سروے: دہلی میں 99 فیصد پی جی کے پاس ’فائر این او سی‘ موجود نہیں، 2453 پی جی میں 4 انتہائی خطرناک
بتایا جا رہا ہے کہ 2453 پی جی کی جانچ ایم سی ڈی سروے میں کی گئی ہے، جن میں محض 31 کے پاس ہی دہلی فائر سروس کی فائر کلیئرنس ملی ہے۔

دہلی میں تعلیم یا ملازمت کے لیے گھر سے دور رہنے والے ہزاروں نوجوانوں کے لیے پی جی (پیئنگ گیسٹ) دوسرا گھر تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ستیہ نکیتن میں پیش آئے خوفناک حادثہ کے بعد پی جی میں رہنے والوں پر منڈلا رہے خطرہ پر سبھی تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ایم سی ڈی کو ہدایت دی تھی کہ وہ سبھی پی جی کا سروے کرے تاکہ خستہ حال پی جی کی صحیح جانکاری سامنے آ سکے۔ اب ایم سی ڈی کا سروے سامنے آ چکا ہے، جس نے پی جی میں سیکورٹی سے متعلق بڑے خدشات کو ظاہر کر دیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ 2453 پی جی کی جانچ ایم سی ڈی سروے میں کی گئی ہے، جن میں محض 31 کے پاس ہی دہلی فائر سروس کی فائر کلیئرنس ملی ہے۔ یعنی تقریباً 99 فیصد پی جی کے پاس ’فائر این او سی‘ موجود ہی نہیں ہے۔ حالانکہ فائر کلیئرنس نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پی جی فائر سے متعلق اصول کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ یہ سرٹیفکیٹ کچھ طے اونچائی اور منزل والی عمارتوں کے لیے ضروری ہے۔ سب سے حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ محض 726 پی جی کے بلڈنگ پلان کو منظوری ملی اور صرف 8 کے پاس اسٹرکچرل اسٹیبلٹی سرٹیفکیٹ تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی یونیورسٹی ساؤتھ کیمپس، آئی آئی ٹی دہلی اور جے این یو کے آس پاس والے ساؤتھ زون میں 390 پی جی ملے۔ ان میں کسی کے پاس بھی منظور بلڈنگ پلان، فائر کلیئرنس، اسٹرکچرل اسٹیبلٹی یا آکیوپینسی سرٹیفکیٹ درج نہیں تھا۔ ماسٹر پلان کے تحت بھی کسی پی جی کے لیے سرگرمی کی اجازت درج نہیں ملی۔ سول لائنس میں 608 پی جی میں 364 کے بلڈنگ پلان منظور تھے، 28 کے پاس فائر کلیئرنس اور 27 کے پاس ریگولرائزیشن منظوری تھی۔ کیشو پورم کے 410 پی جی میں صرف 54 کے پلان منظور تھے اور 2 کے پاس فائر کلیئرنس تھی۔
ایم سی ڈی کی اس سروے رپورٹ میں خطرناک عمارتوں کی جانکاری بھی سامنے آئی ہے۔ سروے میں پتہ چلا ہے کہ 2453 پی جی عمارتوں میں سے 2342 عمارتیں ظاہری طور پر محفوظ ہیں۔ 4 پی جی عمارتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دیکھنے میں انتہائی خطرناک معلوم ہو رہے ہیں۔ ان 4 عمارتوں میں مجموعی طور پر 89 لوگ مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ سروے میں 85 عمارتیں ایسی بتائی گئی ہیں جو ممکنہ طور پر کمزور ہیں۔ علاوہ ازیں 121 پی جی عمارتوں میں مرمت کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ ان میں 91 پی جی ایسے ہیں جن میں معمولی مرمت کی ضرورت ہے، جبکہ 30 عمارتوں میں بڑی مرمت ضروری ہے۔
