
جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس
کانگریس نے مرکزی حکومت کے ’سمندر منتھن یوجنا‘ کو عوام مخالف ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صرف پی ایم مودی کے دوست اڈانی کو فائدہ پہنچے گا۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس بارے میں اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’پی ایم مودی نے اپنے دوست سرمایہ کار اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک ایسی انوکھی سمندر منتھن یوجنا لانچ کی ہے، جس میں ملک کی عوام کے حصہ میں زہر اور اڈانی کے حصہ میں صرف امرت آئے گا۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’پبلک سیکٹر کی کمپنی او این جی سی کا بہترین ٹریک ریکارڈ ہے، لیکن اسے درکنار کر اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے 84084 کروڑ روپیوں کا یہ منصوبہ نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری دولت کو ڈکار خسارے میں چل رہی اڈانی ویلسپن ایکسپلوریشن لمیٹڈ کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔‘‘
مذکورہ باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد جئے رام رمیش نے لکھا کہ ’’کانگریس کا مطالبہ ہے کہ اس منصوبہ کو فوراً ختم کیا جائے، تیل اور گیس تلاش کرنے کے لیے یہ رقم او این جی سی کو دی جائے۔‘‘ انھوں نے اس بارے میں کانگریس لیڈر شکتی سنگھ گوہل کے ذریعہ کی گئی پریس کانفرنس کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں ’سمندر منتھن یوجنا‘ کی خامیاں ظاہر کی گئی ہیں۔ پریس کانفرنس میں گوہل نے بتایا ہے کہ 2005 میں اڈانی اور ویلسپن نے آئل-گیس کی تلاش کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بنایا۔ اس میں اڈانی گروپ کی 65 فیصد اور ویلسپن کی 35 فیصد حصہ داری ہے، لیکن یہ کمپنی خسارے میں چل رہی ہے۔ ایسے میں ایک نیا منصوبہ بنایا گیا ’سمندر منتھن یوجنا‘۔ اس منصوبہ کے بعد کمپنی کے ایم ڈی لکھتے ہیں کہ مودی حکومت کے اس منصوبہ سے ہم چھلانگ لگا کر آگے بڑھنے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس منصوبہ کا فائدہ اڈانی-ویلسن گروپ کو ملنے جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں گوہل نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’اڈانی کے ساتھ جس ویلسپن گروپ کا نام سامنے آیا ہے، اس نے الیکٹورل بانڈ میں بی جے پی کو 10 کروڑ کا چندہ دیا تھا۔ مہاراشٹر میں انتخاب کے وقت بھی 6600 ایم ڈبلیو کا ٹینڈر براہ راست اڈانی کو ملا تھا اور یہ سنگل ٹینڈر تھا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مدھیہ پردیش کے سنگرولی میں اڈانی کو کوئلہ کانکنی بلاک دیے گئے، جس میں ماحولیات، ٹائیگر ریزرو اور ہاتھیوں کے کاریڈور سے جڑے معاملے اٹھے لیکن تمام باتوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لوک سبھا میں جب اس کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو جواب ملا کہ گرام سبھا سے تجویز پاس کرانا لازمی ہے، لیکن اڈانی سے جڑے کول بلاک کے معاملے مں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔