
فائل فوٹو
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ سے وزیر اعظم نریندر مودی کی ویڈیو ہٹانے کے معاملے میں ’میٹا‘ نے اپنا جواب حکومت کو دے دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اب اہم شخصیات کے اکاؤنٹ کے لیے میٹا نئے پروٹوکول پر عمل کرے گا اور آئندہ کچھ دنوں میں میٹا کے گلوبل افسران ہندوستان آئیں گے اور حکومت ان سے تکنیکی مسائل پر تبادلۂ خیال کرے گی۔ میٹا نے کہا کہ اب سینئر افسران اہم شخصیات کا اکاؤنٹ دیکھیں گے۔ حکومت میٹا سے پالیسی اور تکنیک دونوں پر جواب چاہتی ہے۔ میٹا نے اس پر معافی بھی مانگی ہے اور کہا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی غلطی نہیں ہوگی۔
میٹا نے حکومت کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم اور دیگر اہم شخصیات کی طرف سے پوسٹ کیے گئے مواد پر اضافی نگرانی رکھی جائے گی اور ان کا جائزہ کمپنی کے سینئر افسران کے کئی سطح پر لیا جائے گا۔ حکومت نے وزیر اعظم مودی کی ایک فیس بک پوسٹ کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹائے جانے کے معاملہ پر منگل کو میٹا کے ایک افسر کو طلب کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے 23 جولائی کی پوسٹ میں نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے پیپر لیک کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلایا تھا۔ امریکہ میں واقع اس سوشل میڈیا کمپنی نے اسے تکنیکی خرابی قرار دیتے ہوئے معافی بھی مانگی تھی۔ حالانکہ آئی ٹی وزارت نے اس وضاحت کو ناکافی مانا تھا۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی کا ویڈیو پیغام 23 جولائی کو انسٹاگرام پر پوسٹ کیا گیا اور بعد میں اسے فیس بک پر ڈالا گیا تھا، لیکن میٹا نے اسے کچھ وقت کے لیے روک دیا تھا۔ میٹا نے اس صورتحال کے لیے اپنے خودکار اے آئی کنٹنٹ فلٹر میں آئی تکنیکی خامی کو ذمہ دار بتایا تھا۔ میٹا نے کہا تھا کہ غلطی سے ہٹائے گئے مواد کو بعد میں بحال کر دیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں میں میٹا کئی ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے حکومت کے ریڈار پر رہی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر پر اعتراض کیا تھا کیونکہ اس سے آن لائن دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انسٹاگرام پر قابل اعتراض مواد کو لے کر بھی کمپنی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔