یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر حملے کا کیا دعویٰ، ریاض اور ینبع کو بنایا نشانہ

یحییٰ سریع نے کہا کہ پہلے آپریشن میں ریاض کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں انہوں نے حساس ٹھکانہ قرار دیا۔ دوسرے آپریشن میں ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب پر حملہ کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>حوثی کا حملہ، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

یمن کے حوثی گروپ نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی راجدھانی ریاض اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بڑے صنعتی اور توانائی مرکز ینبع پر حملے کیے ہیں۔ اس حملے سے فریقین کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حوثیوں کے زیر کنٹرول المسیّرہ ٹی وی پر جاری ایک بیان میں حوثی کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرون کا استعمال کیا گیا۔ سریع کے مطابق پہلے آپریشن میں ریاض کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں انہوں نے حساس ٹھکانہ قرار دیا۔ دوسرے آپریشن میں ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب پر حملہ کیا گیا۔ سریع نے دعویٰ کیا کہ دونوں آپریشن کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، وہاں بھیانک آگ لگ گئی۔

حوثیوں کا یہ بیان ہفتے کے روز ریاض میں 2 مرتبہ دھماکوں کی آواز سنائی دینے کے بعد سامنے آیا۔ دوسری واردات کے بعد راجدھانی کے شمال مشرقی حصے میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ کچھ پروازوں میں تاخیر بھی ہوئی۔ سعودی حکام نے اس سے قبل ریاض پر فضائی حملے کے خطرے کا الرٹ جاری کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد راجدھانی ریاض پر اس طرح کا یہ پہلا حملہ تھا۔ بعد میں ’آرگنائزیشن آف اسلامک کو۔آپریشن‘ او آئی سی نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ریاض کو نشانہ بنا کر داغے گئے حوثیوں کے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ او آئی سی نے یہ بھی کہا کہ اس نے بیش، طائف، فرسان اور ینبع پر حملوں کو ناکام کیا۔


او آئی سی کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ ان حملوں میں عام شہریوں اور شہری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حملوں کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ وہیں حوثی ترجمان سریع نے اس الزام کی تردید کی کہ ان کے گروپ نے قصداً عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاض پر حملے یمن میں حوثیوں کے زیر انتظام علاقوں پر سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ سریع نے کہا کہ حوثی جوابی کارروائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اسے ’جیسے کو تیسا‘ کی حکمت عملی قرار دیا اور کہا کہ جب تک سعودی کے فضائی حملے بند نہیں ہوتے اور یمن پر عائد پابندیاں نہیں ہٹائی جاتیں، تب تک ان کی جوابی کارروائی جاری رہے گی۔

موجودہ کشیدگی کا آغاز جولائی کے وسط میں ہوا تھا، جب یمن کی مسلح افواج نے حوثیوں کے زیر کنٹرول صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا تھا۔ اس کا مقصد ایران کے ایک مسافر طیارے کو وہاں اترنے سے روکنا تھا۔ اس طیارے میں حوثیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سوار تھا، جو خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد ایران سے واپس آرہا تھا۔ حوثی گروپ نے ان حملوں کے لیے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمن حکومت کا ایک اہم اتحادی ہے۔ اس کے بعد حوثیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے شروع کر دیے۔اس کے بعد حوثی گروپ نے 20 جولائی کو باب المندب آبنائے سے سعودی بحری جہازوں کی آمد و رفت روکنے کا اعلان کیا۔ تب سے گروپ نے سعودی تیل بردار جہازوں اور سعودی عرب میں موجود تیل کی تنصیبات پر کئی حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ یمن میں تنازعہ کا آغاز 2014 کے اواخر میں ہوا تھا، جب حوثی باغیوں نے راجدھانی صنعاء اور شمالی یمن کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمن حکومت کی حمایت میں مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے یمن میں مداخلت کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔