ایران نے مذاکرات کی شرائط امریکہ کو سونپ دیں: محسن رضائی
امریکہ کو بھیجی گئی اہم شرائط میں تمام محاذوں پر فوجی تصادم، جنگ پر مکمل روک، امریکہ کی جانب سے ضبط کی گئی تمام ایرانی املاک کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کو ہٹانا شامل ہے۔

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے ہفتہ کو قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعہ امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط بھیجے جانے کی تصدیق کی ہے۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق محسن رضائی نے ایک میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو جلد ہی ان شرائط پر اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔
محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران کے بارے میں اندازہ اور حساب کتاب پوری طرح غلط ثابت ہوا ہے اور یہ جنگ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اکسانے پر شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور ایران ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج امریکی فوج کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں اور امریکی فضائی حملوں کا سامنا کرنے کے لیے غیر معمولی طور پر اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے گزشتہ معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد تہران کو واشنگٹن کے تئیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں ایران نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب بحری جہاز شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کرکے اپنی تیاریوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
قطر کے ثالث کے ذریعہ امریکہ کو بھیجی گئی اہم شرائط میں تمام محاذوں پر جاری فوجی تصادم اور جنگ پر مکمل روک، امریکہ کی جانب سے ضبط کی گئی تمام ایرانی املاک کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ہٹانا شامل ہے۔ رضائی نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات ایران کو ’جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘ سے نکلنے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک این پی ٹی سے دستبردار ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور یہ مکمل طور پر امریکہ کے طرز عمل پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے والے فتویٰ اور اپنے جوہری نظریے پر قائم ہے، لیکن مستقبل کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
یمن اور سعودی عرب کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ ایران، سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری تنازع کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ یمن کے عوام بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے حامی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
