کیا ’ڈوسو‘ انتخاب کے لیے دوبارہ ووٹنگ ہوگی؟ جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کے امیدوار رہے وشیش یادو نے دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ کیا
وشیش یادو نے کہا کہ ’’میں اب دوبارہ انتخاب (ری پول) کا مطالبہ کر رہا ہوں، اور میں ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کراؤں گا جنہوں نے دھاندلی کی۔‘‘
دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخاب میں جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کے امیدوار رہے وشیش یادو نے دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر راؤنڈ میں آگے تھا۔ 20ویں راؤنڈ میں میں پیچھے ہوگیا۔ یہ اعلان کر دیا گیا کہ لکشیہ راج سنگھ کی جیت ہوئی ہے۔ ’سماجوادی چھاتر سبھا‘ کے حمایت یافتہ امیدوار وشیش یادو نے الزام عائد کیا کہ تنظیم انتخاب یا ووٹوں کی گنتی کے دوران گڑبڑی کرتی ہے۔ طلبہ کو تنظیم کے حق میں ووٹ دینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کی حاضری کاٹ دی جائے گی۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق وشیش یادو نے کہا کہ میں گنتی کے آخری راؤنڈ تک آگے چل رہا تھا۔ 20ویں راؤنڈ میں 6 ای وی ایم سے ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد اعلان کیا گیا کہ لکشیہ راج جیت گئے ہیں۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ میں 700 ووٹوں سے پیچھے ہوگیا؟ یہ کسی امیدوار کے خلاف کھلی دھاندلی ہے۔ میں دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وشیش یادو آج بھی اتنا ہی مضبوط ہے جتنا اس وقت تھا جب آپ نے اسے ووٹ دیا تھا۔ لڑائی انتخاب کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ میں طلبہ کے لیے لڑتا رہوں گا۔ میں اب دوبارہ انتخاب (ری پول) کا مطالبہ کر رہا ہوں، اور میں ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کراؤں گا جنہوں نے دھاندلی کی۔ جب میں انتخابی مہم چلانے جاتا تھا تو میں ہر طالب علم سے کہتا تھا کہ لڑائی صرف انتخاب تک کی نہیں ہے۔ یہ نام صرف انتخاب تک نہیں بلکہ اس کے بعد بھی رہے گا۔
وشیش یادو نے یہ بھی کہا کہ طلبہ کے لیے میں ہمیشہ کھڑا رہوں گا۔ آج بھی میں طلبہ کے لیے کھڑا ہوں تاکہ آئندہ سال جب کوئی عام طالب علم انتخاب لڑنے آئے تو اسے ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندر سے آفیشیل نوٹس پر لکھا گیا ہے کہ آخری راؤنڈ میں جن 6 ای وی ایم کی گنتی ہوئی، ان میں 1600 ووٹ میرے اور تقریباً 900 ووٹ لکشیہ راج کے دکھائے گئے۔ بعد میں پتہ نہیں کیا میٹنگ ہوئی کہ میرے ووٹ لکشیہ کے اور لکشیہ کے ووٹ میرے حصے میں دکھا دیے گئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
