
تصویر سوشل میڈیا
راجہ رگھوونشی قتل معاملہ کے بعد لوگ میگھالیہ جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ریاست کی سیاحت میں اچانک کافی کمی آ گئی ہے۔ لوگ میگھالیہ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ کئی ہوٹلوں میں بکنگ کینسل کر دی گئی ہے۔ سیاحوں کی آمد میں کمی کی وجہ سے یہاں کے مقامی لوگ کافی مایوس ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم تو مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں، لیکن بغیر کچھ کیے ہی بدنام ہو گئے۔ دراصل اپنے شوہر راجہ رگھوونشی کے قتل کے لیے سونم نے میگھالیہ کا انتخاب کیا تھا، سُپاری کلرز کی مدد سے سونم نے راجہ کو قتل کر کے پہاڑی سے نیچے پھینک دیا تھا۔
Published: undefined
شیلانگ کے الپائن ہوٹل کے منیجر سچن کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد سے ہوٹل انڈسٹری پر کافی فرق پڑا ہے۔ 5 سے 10 فیصد بکنگ کینسل ہوئی ہے اور نئی بکنگ کافی کم آئی ہے، کافی نقصان ہو رہا ہے۔ سچن کے مطابق میگھالیہ مکمل طور سے محفوظ ہے اور اسے بدنام کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ میگھالیہ ٹورزم فورم کے ایگزیکٹو ممبر کمل اگروال کا بھی کہنا ہے کہ میگھالیہ ٹورز پر کافی اثر پڑا ہے، ہوٹل بکنگ کینسل ہو رہی ہے۔ ٹورزم انڈسٹری کو بھی معمولی نقصان ہوا ہے۔
Published: undefined
تقریباً 16 لاکھ سیاح ہر سال میگھالیہ گھومنے کے لیے آتے ہیں، لیکن راجہ رگھوونشی قتل معاملہ کے بعد سیاحت پر جو منفی اثر پڑا ہے اس کی وجہ سے وہاں کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ وزراء بھی کافی ناراض ہیں۔ قاتل سونم رگھوونشی کے بھائی گووند رگھوونشی نے میگھالیہ حکومت سے معافی بھی مانگ لی ہے۔ گووند نے کہا کہ ’’میں نے میگھالیہ حکومت پر کافی الزام عائد کیے تھے، اس کے لیے میں معافی مانگتا ہوں۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ سونم رگھوونشی نے صدر پولیس اسٹیشن میں ایس آئی ٹی کی پوچھ تاچھ کے دوران قبول کر لیا ہے کہ وہ راجہ رگھوونشی کے قتل کی پلاننگ میں شامل تھی۔ دراصل شیلانگ میں جب راجہ رگھوونشی کے قتل میں شامل ملزمان کو آمنے سامنے لایا گیا تو سونم اور راج کشواہا کا بھی آمنا سامنا ہوا۔ ایس آئی ٹی کے ذریعہ پیش کیے گئے ثبوتوں کو دیکھ کر سونم زور زور سے رونے لگی۔ واضح ہو کہ راجہ قتل معاملہ میں شامل پانچوں ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں راجہ رگھوونشی کی بیوی سونم، راج کشواہا (سونم کا عاشق)، 3 سپاری کلرز آنند، آکاش راجپوت اور وشال عرف وکی ٹھاکر شامل ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
Weapon