
فائل تصویر آئی اے این ایس
ہندوستانی حکومت نے پاکستان میں تقریباً ایک صدی پرانے مندر کو گرائے جانے کی خبروں پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف بربریت کو ظاہر کرتا ہے۔ وزارت نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "ہمیں پاکستان کے نارووال ضلع کے سراج گاؤں میں ایک تاریخی ہندو مندر کے انہدام کی ہولناک خبروں پر گہری تشویش ہے۔ ہم ایک صدی پرانی اقلیتوں کی عبادت گاہ کے خلاف توڑ پھوڑ کے اس قابل مذمت عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ملک کے حکام کی بے حسی اور اس قدیم مندر کی حفاظت میں ناکامی تشویشناک ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، "اس طرح کے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتی برادریاں کتنی کمزور ہیں، اور یہ کہ ان کی مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔" جیسوال نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکومت اس واقعے کی فوری، شفاف تحقیقات کرے اور قصورواروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تباہ شدہ مندر کی مرمت کی جائے اور حکومت ملک میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے مذہبی مقامات کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
سوسے زائد سال پرانا مندر لاہور سے تقریباً ایک سو تیس کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال کے گاؤں سراج میں واقع تھا۔ مقامی باشندوں، اقلیتی تنظیموں اور ایک سیاسی جماعت نے الزام لگایا کہ مذہبی انتہا پسندوں نے مندر کو مسمار کر کے اس کی زمین کو قریبی مدرسے کے ساتھ ملایا۔ تاہم حکومت نے دعویٰ کیا کہ پرانا مندر موسلا دھار بارش کی وجہ سے اپنے طور پر گر گیا۔ پاکستان مسیحا ملت پارٹی نے پنجاب حکومت سے مندر کو گرانے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور مندر کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔