آن لائن فراڈ نیٹ ورک کے خلاف کمبوڈیا کی بڑی کارروائی، 30 کروڑ ڈالر سے زائد کے اثاثے منجمد
سی سی او ایس کے مطابق جولائی 2025 سے اگست 2026 کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آن لائن فراڈ کے 663 گروہوں کے خلاف کارروائی کی اور 39 ممالک کے تقریباً 30000 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

کمبوڈیا نے آن لائن ٹھگی (سائبر فراڈ) نیٹ ورک کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 30 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے مشتبہ اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ یہ اطلاع آن لائن اسکَیم سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیے گئے ایڈ ہاک کمیشن فار کمبیٹنگ آن لائن اسکَیمز (سی سی او ایس) نے بدھ کو جاری ایک پریس ریلیز میں دی۔ پریس ریلیز کے مطابق ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی ملک گیر مہم کے دوران افسران نے آن لائن فراڈ سے منسلک بینک کھاتوں میں جمع 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم منجمد کی ہے۔ اس کے علاوہ 29 ممالک کے 3927 ملزمان کے خلاف 446 مقدمات عدالت میں بھیجے گئے ہیں، جن میں گروہ کے سرغنہ اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں۔
سی سی او ایس کے مطابق جولائی 2025 سے اگست 2026 کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آن لائن فراڈ کے 663 گروہوں کے خلاف کارروائی کی اور 39 ممالک کے تقریباً 30000 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ کارروائی کے دوران 27 کیسینو بھی تحقیقات کے دائرے میں آئے۔ ان میں سے 18 کیسینو کے لائسنس مستقل طور پر منسوخ کر دیے گئے، جبکہ 9 کیسینو کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اب تک 38 ممالک کے 22000 سے زائد افراد کو آن لائن فراڈ میں براہ راست ملوث پائے جانے کے بعد کمبوڈیا سے نکالا جا چکا ہے۔ سی سی او ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ فی الحال کمبوڈیا میں بڑے پیمانے پر چلائے جانے والے آن لائن فراڈ مراکز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم فراڈ کی کچھ سرگرمیاں اب چھوٹے اور خفیہ ٹھکانوں جیسے کرائے کے کمروں، گیسٹ ہاؤسز، ذاتی مکانات، گاڑیوں اور کافی شاپس سے چلائی جا رہی ہیں۔
سی سی او ایس کے سربراہ اور سینئر وزیر چھائے سینارتھ نے بتایا کہ جولائی 2025 سے 20 اگست 2026 کے درمیان خصوصی قانون نافذ کرنے والی فورسز نے 793 مشتبہ مقامات کی تلاشی لی، جن میں سے 624 ٹھکانوں پر براہ راست کارروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران 58266 غیر ملکی شہریوں کو بچایا گیا اور جلاوطن کیا گیا، جن میں 7282 خواتین شامل تھیں۔ ان میں سے 22045 افراد 38 ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں آن لائن فراڈ نیٹ ورک میں براہ راست ملوث پایا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
