راہل گاندھی کی مہاراشٹر کے قبائلی طلبہ سے ملاقات، مسائل اور مطالبات پر گفتگو

راہل گاندھی نے ناسک میں مہاراشٹر کے سرکاری ہاسٹلز میں رہنے والے قبائلی طلبہ سے ملاقات کی۔ طلبہ نے ناقص کھانے، صاف صفائی کے فقدان، غیر محفوظ انفراسٹرکچر اور عمر کی پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا

<div class="paragraphs"><p>تصاویر بشکریہ ایکس</p></div>
i

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے بدھ کو مہاراشٹر کے ناسک میں قبائلی طلبہ کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کی۔ وفد میں وہ طلبہ بھی شامل تھے جو اپنی مختلف مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ راہل گاندھی نے طلبہ کے مسائل اور مطالبات تفصیل سے سنے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باعزت، محفوظ اور سازگار ماحول ملنا اس کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ محروم اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو نظام کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے بجائے اس کے تعاون اور ہر ممکن مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ تعلیم کوئی خصوصی رعایت نہیں بلکہ ہندوستان کے ہر طالب علم کا حق ہے۔ ان کی یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب مہاراشٹر کے سرکاری ہاسٹلز میں رہنے والے قبائلی طلبہ اپنے بنیادی مسائل کو لے کر احتجاج کر چکے ہیں۔

طلبہ کے احتجاج میں سرکاری ہاسٹلز میں ناقص معیار کے کھانے، صاف صفائی کی خراب صورتحال، غیر محفوظ بنیادی ڈھانچے اور عمر کی سخت حد جیسے مسائل نمایاں رہے ہیں۔ طلبہ کا مطالبہ تھا کہ ہاسٹلز میں رہنے والے طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں اور ایسے قواعد ختم کیے جائیں جو ان کی تعلیم اور رہائش میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔


احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا تھا جب ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ چھٹی کے بعد ہاسٹل واپس آنے والی طالبات کو لازمی طبی معائنے اور حمل کی جانچ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس معاملے نے طلبہ اور دیگر حلقوں میں تشویش پیدا کی۔

پونے میں منعقدہ کانگریس کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران ایک طالب علم نے اس معاملے کو براہ راست اسٹیج پر راہل گاندھی کے سامنے اٹھایا تھا۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھ کر طلبہ کو فوری راحت فراہم کرنے اور ان کے مطابق غیر منصفانہ قواعد ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

طلبہ کی بھوک ہڑتال 29 اگست کو اس وقت ختم ہوئی جب مہاراشٹر حکومت نے ان کے بنیادی مطالبات قبول کر لیے۔ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج واپس لے لیا۔ اس پیش رفت کے بعد راہل گاندھی 2 ستمبر کو ناسک پہنچے، جہاں انہوں نے کانگریس کے ’سُرجن‘ تربیتی کیمپ کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی۔ اسی دوران انہوں نے قبائلی طلبہ کے وفد سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے


دریں اثنا، کانگریس کی جانب سے راہل گاندھی کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کو ملک کے دیگر حصوں میں بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اندور میں 12 ستمبر کو مجوزہ پروگرام کو اب 19 ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ کانگریس کے مطابق شہر کے ایک اسٹیڈیم میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث تاریخ تبدیل کی گئی ہے۔

کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ حکومت راہل گاندھی کے پروگرام سے خوفزدہ ہے، جبکہ حکمراں بی جے پی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس عوام کو جمع کرنے میں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے بہانے بنا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔