
دہلی کے ستیہ نکیتن میں وہ مقام جہاں عمارت منہدم ہوئی / ٍقومی آواز / وپن
جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقہ میں 6 ستمبر کو پیش آئے حادثہ کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) ایکشن میں دکھائی دے رہا ہے۔ اب ایم سی ڈی نے منہدم عمارت سے بالکل ملحق دوسری کثیر منزلہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ ایم سی ڈی کا کہنا ہے کہ حادثہ کے بعد کچھ عمارتوں کو غیر محفوظ اور خطرناک قرار دیا گیا تھا، جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جا رہی ہے۔
ایم سی ڈی کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے متاثرہ عمارت سے ملحق عمارت کو گرانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ شام کو کام روک دیا گیا تھا، جسے اگلی صبح (9 ستمبر کو) پھر سے شروع کیا جائے گا۔‘‘ بتایا جا رہا ہے کہ اس عمارت کو ماہرین کی نگرانی میں زمین بوس کیا جائے گا۔ عمارت کو اچانک گرنے سے بچانے کے لیے چاروں طرف لوہے کے سپورٹ بھی لگائے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اس عمارت میں لڑکیوں کا پی جی چلتا تھا، لیکن اتوار کو ہوئے حادثہ کے فوراً بعد اسے خالی کرا لیا گیا تھا۔ ایم سی ڈی نے مکان نمبر 13 کے مالک اور رہائشیوں کو اسے منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا، کیونکہ اس سے آس پاس کی عمارتوں اور لوگوں کی جان کو خطرہ تھا۔ عمارت منہدم کرنے کی کارروائی شروع کرنے سے قبل طلبا کو اپنا بچا ہوا سامان لے جانے کے لیے کہا گیا تھا۔
دوسری طرف ستیہ نکیتن حادثہ کے بعد ایم سی ڈی نے پوری دہلی میں پی جی رہائشوں کے خلاف بڑی مہم شروع کی ہے۔ گزشتہ 2 دنوں میں کارپوریشن کی ٹیموں نے سبھی 12 زون میں تقریباً 1100 پی جی ملکیتوں کا سروے کیا ہے، جن میں تقریباً 20250 طلبا مقیم ہیں۔ اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ 24 عمارتوں پر بلڈوزر چلا کر انہدامی کارروائی بھی کی گئی ہے، جبکہ 27 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نیا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 7 عمارتوں کو پوری طرح سیل کر دیا گیا ہے اور 35 کو ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری کیا گیا ہے۔ 6 دیگر عمارتوں کو ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ سیلنگ کارروائی سے متعلق جاری کیا گیا ہے۔ ایم سی ڈی کی یہ کارروائی لکشمی نگر، مکھرجی نگر، جامعہ نگر، شاہین باغ، قرول باغ، چاندنی چوک اور نہرو وِہار جیسے ’اسٹوڈنٹس ہبس‘ میں ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ ستیہ نکیتن میں پیش آئے حادثہ کے بعد ایم سی ڈی کمشنر نے دہلی کے ہر ایک پی جی کی میپنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے یہ پتہ لگایا جائے گا کہ یہ ملکیتیں حفاظتی پیمانوں اور عمارت تعمیرات کے اصولوں پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ ناجائز طریقے سے بنائی گئی پانچویں منزل سے متعلق سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اگر کسی زیر تعمیر عمارت میں بغیر اجازت پانچویں منزل بنائی جا رہی ہوگی، تو اسے فوراً منہدم کر دیا جائے گا۔ ساتھ ہی جن موجودہ عمارتوں میں پہلے سے پانچویں منزل بنی ہے، ان کا سروے کیا جائے گا اور رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔