قومی خبریں

بریلی کے مولانا شہاب الدین رضوی نے وقف بورڈ میں اربوں روپے خرد برد کا لگایا الزام، سی ایم یوگی کو لکھا خط

مولانا رضوی نے دعوی کیا ہے کہ وقف بورڈ کی صحیح طریقے سے جانچ ہوئی تو رام مندر نذرانہ چوری کے معاملے سے بھی بڑا گھپلہ سامنے آ سکتا ہے۔

اتر پردیش سنی وقف بورڈ، تصویر آئی اے این ایس
اتر پردیش سنی وقف بورڈ، تصویر آئی اے این ایس 

اترپردیش کے بریلی میں ’آل انڈیا مسلم جماعت‘ کے قومی صدر مولانا شہاب الدین رضوی نے وقف بورڈ پر سنگین الزام لگایا ہے۔ مولانا رضوی نے ’سنی سینٹرل وقف بورڈ‘ اور ’شیعہ وقف بورڈ‘ پر وقف کی اراضیوں میں بڑے پیمانے پر خرد برد کرنے اور اربوں روپے کے گھپلے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا ہے کہ وقف بورڈ کی صحیح طریقے سے جانچ ہوئی تو رام مندر نذرانہ چوری کے معاملے سے بھی بڑا گھپلہ سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’صرف بریلی میں ہی وقف کی زمینوں کے حوالے سے کروڑوں اربوں روپے کا گھپلہ ہوا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پورے معاملے کی جانچ کرانی چاہیے، کیوں کہ لوگوں نے وقف کی زمینوں کا استعمال اپنے فائدے کے لیے کیا ہے۔ مولانا رضوی نے بتایا کہ انہوں نے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر پورے معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مولانا رضوی کا کہنا ہے کہ وقف کی اراضیاں غریب مسلمانوں، خواتین، بچوں، ضرورت مندوں اور بے سہارا افراد کی مدد کے لیے دی گئی تھیں۔ ان زمینوں سے ہونے والی آمدنی انہی لوگوں پر خرچ ہونی چاہئے تھی، لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ آج بھی غریب مسلمان بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور کچھ لوگ وقف کی زمینوں سے کروڑوں روپے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ مولانا نے الزام لگایا ہے کہ وقف بورڈ کی زمینوں کی خرید و فروخت کا غلط کاروبار سماجوادی پارٹی کی حکومت کے دوران پروان چڑھا۔ جب جب سماجوادی پارٹی کی حکومت بنی، تب تب ’سنی سینٹرل وقف بورڈ‘ ہو یا ’شیعہ وقف بورڈ‘ دونوں کے ذمہ داروں نے حکومتی تحفظ میں وقف کی اراضیوں کا سودا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سماجوادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو 3 بار وزیر اعلی رہے۔ ان کی پہلی مدت کار 1989 سے 1991، دوسری مدت 1993 سے 1995 اور تیسری مدت 2003 سے 2007 تک رہی۔

ان کے بعد ان کے بیٹے اکھلیش یادو 2012 سے 2017 تک وزیر اعلی رہے۔‘‘ مولانا کا دعوی ہے کہ ’’سماج وادی پارٹی کی ان چاروں مدت کار میں زیادہ تر وقت تک اقلیت، وقف اور حج کی وزارت اعظم خاں کے پاس رہی۔‘‘ مولانا نے الزام لگایا ہے کہ ’’اعظم خاں کی پسند کے لوگوں کو ہی وقف بورڈ کا چیئرمین اور ممبر بنایا جاتا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ظفر احمد فاروقی 2000 سے 2001 تک، امیر عالم 2001 سے 2003 تک، حافظ عثمان 2004 سے 2009 تک اور پھر ظفر احمد فاروقی 2010 سے 2026 تک سنی وقف بورڈ کے چیئرمین رہے۔‘‘ ان کا الزام ہے کہ ’’اس مدت کار میں بورڈ کے اندر منمانے طریقے سے کام ہوا۔‘‘ مولانا نے کہا کہ ’’سنی اور شیعہ دونوں وقف بورڈ کے ذمہ داروں نے وقف کی اراضیوں کو فروخت کیا۔ جو بھی شخص بورڈ کا ممبر یا عہدیدار بنا، اس نے اپنے علاقے میں وقف کی زمینوں کا بٹوارہ کیا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے بزرگوں نے لاکھوں اراضیاں اس لیے وقف کی تھیں تاکہ اس کی آمدنی غریب، کمزور، معذور اور یتیم بچوں پر خرچ ہوسکے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور وقف بورڈ کے ذمہ داران نے صرف لوٹ کھسوٹ کیا۔ بزرگوں کا مقصد تھا کہ وقف کی زمینوں پر اسکول، کالج، اسپتال اور مدرسے بنائے جائیں۔ لیکن وقف مافیا نے اس مقصد کو پورا ہونے نہیں دیا۔ وقف اراضی کا فائدہ عوام کی جگہ کچھ لوگوں نے اٹھایا۔‘‘ مولانا شہاب الدین رضوی نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وقف بورڈ کے ذریعہ فروخت کی گئی سبھی زمینوں کی جانچ کرائی جائے اور جو قصور وار ملے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ مولانا نے کہا کہ ’’اگر وقف کی آمدنی صحیح طریقے سے غریب مسلمانوں پر خرچ کی جائے تو پورے ملک میں مسلمانوں کی غریبی کافی حد تک ختم ہوسکتی ہے اور کوئی بھی مسلمان بھیک مانگتے نظر نہیں آئے گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔