قومی خبریں

علی خامنہ ای کی شہادت کے غم میں منعقد اجلاس پر پولیس کارروائی سے مولانا کلب جواد ناراض، پی ایم مودی کو لکھا خط

مولانا کلب جواد نے آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کا غم منانے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کو امریکی دباؤ میں اٹھایا گیا قدم بتایا اور حکومت ہند کے ذریعہ تعزیتی پیغام نہ بھیجے جانے کی مذمت بھی کی۔

مولانا کلب جواد، تصویر آئی اے این ایس
مولانا کلب جواد، تصویر آئی اے این ایس 

اتر پردیش و ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر اجلاس منعقد کر لوگوں نے غم کا اظہار کیا۔ کئی مقامات پر غم منانے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائی ہوئی، جس پر مسلم مذہبی پیشواؤں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ لکھنؤ میں شیعہ مذہبی پیشوا مولانا کلب جواد نقوی نے بھی اس سلسلے میں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا کلب جواد نقوی نے پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو بھی خط لکھ کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کا غم منانے والوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کو امریکی دباؤ میں اٹھایا گیا قدم بتایا اور حکومت ہند کے ذریعہ تعزیتی پیغام نہ بھیجے جانے کی مذمت بھی کی۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ اس خط کے ذریعہ مولانا کلب جواد نقوی نے ایران پر حالیہ حملوں کو لے کر ہندوستان کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ انھوں نے حکومت سے پوچھا ہے کہ جب ایران جیسے دوست ملک پر حملہ ہو رہا ہے، تو ہندوستان خاموش کیوں ہے؟ انھوں نے ہندوستان-ایران کے مضبوط تاریخی و اسٹریٹجک رشتوں کو یاد دلاتے ہوئے دفاعی معاہدوں اور خارجہ پالیسی پر از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ خط میں اتر پردیش اور کشمیر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر غم منانے والوں پر پولیس کارروائی کی خاص طور پر مخالفت کی گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined