قومی خبریں

مراٹھا تحریک: منوج جرانگے کی ممبئی میں بھوک ہڑتال شروع، آزاد میدان پر ہزاروں حامیوں کی موجودگی

سماجی کارکن منوج جرانگے پاٹل نے مراٹھا ریزرویشن کے لیے آزاد میدان، ممبئی میں غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ ہزاروں حامی لوکل و لمبی دوری کی ٹرینوں سے پہنچے، پولیس و ریلوے نے سخت سیکورٹی انتظامات کیے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

ممبئی: مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعہ کی صبح سماجی کارکن منوج جرانگے پاٹل نے جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں اپنی غیر معینہ ہڑتال شروع کر دیی۔ صبح دس بجے کے بعد جیسے ہی جرانگے اسٹیج پر پہنچے، پورا میدان ان کے حامیوں سے بھر گیا۔

جرانگے کے ہمراہ جالنہ ضلع سے ممبئی تک گاڑیوں کا قافلہ آیا اور شہر میں قدم رکھتے ہی ہزاروں افراد نے نعرے بازی شروع کر دی۔ زیادہ تر حامی چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس اسٹیشن پر اترے اور وہاں سے جلوس کی شکل میں آزاد میدان کی طرف بڑھتے گئے۔ اس دوران اسٹیشن اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک جام اور غیر معمولی بھیڑ دیکھنے کو ملی۔

Published: undefined

بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے منوج جرانگے نے کہا، ’’میں کسی بھی قیمت پر پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ اگر ضرورت پڑی تو جان دینے یا گولی کھانے کو تیار ہوں لیکن مراٹھا سماج کے حق کے بغیر یہ جدوجہد ختم نہیں ہوگی۔‘‘ انہوں نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ ہر حال میں امن قائم رکھیں، پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور سڑکوں پر بلاوجہ ٹریفک جام نہ کریں۔

سیکورٹی کے سخت انتظامات

ہزاروں کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے ممبئی پولیس اور ریلوے انتظامیہ نے کڑی حفاظتی تیاری کی ہے۔ جمعرات کی رات سے ہی اسٹیشنوں پر مراٹھا سماج کے لوگ موجود تھے، جس کے سبب حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) اور مہاراشٹر سکیورٹی فورس (ایم ایس ایف) کی بڑی تعداد تعینات کی گئی۔

Published: undefined

ممبئی سینٹرل ریلوے کے مطابق 240 اضافی آر پی ایف جوان ڈیوٹی پر لگائے گئے ہیں۔ صرف سی ایس ایم ٹی پر دن میں 200 اور رات میں 230 جی آر پی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اسی طرح بھیڑ والے اسٹیشنوں جیسے دادر، بھائیکلہ، پرل اور چنچپوکلی پر اضافی نفری رکھی گئی ہے تاکہ ہجوم کے درمیان نظم برقرار رہے۔

مراٹھا سماج طویل عرصے سے ریزرویشن کی مانگ کرتا آیا ہے۔ جرانگے اور ان کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ مراٹھا برادری کو او بی سی زمرے میں شامل کر کے ریزرویشن دیا جائے لیکن موجودہ صورت حال میں او بی سی کی فہرست میں پہلے ہی 350 سے زیادہ ذاتیں شامل ہیں۔

فی الحال آزاد میدان مراٹھا تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے اور منوج جرانگے کے اعلان کے بعد یہ احتجاج کتنی دیر تک جاری رہے گا، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined