قومی خبریں

’’بی جے پی پہلے 30 سیٹیں جیت کر دکھائے، پھر دیکھیں 294 سیٹوں کا خواب‘‘

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بیربھوم میں پیدل یاترا نکالی اور بعد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کو چیلنج دیا کہ وہ پہلے بنگال میں 30 سیٹیں جیت کر دکھائے، اور بعد میں 294 کا خواب دیکھے

علامتی تصویر، تصویر یو این آئی
علامتی تصویر، تصویر یو این آئی 

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی اور ترنمول کانگریس ایک دوسرے پر زوردار طریقے سے حملہ آور نظر آ رہے ہیں۔ امت شاہ کے روڈ شو کے بعد منگل کے روز وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بیربھوم میں پیدل یاترا نکالی اور بعد میں ریلی کو خطاب کیا۔ ممتا بنرجی نے یہاں بی جے پی کو چیلنج پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وہ بنگال میں 30 سیٹیں جیت کر دکھائے، اور پھر بعد میں 294 سیٹوں کا خواب دیکھے۔

Published: undefined

ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بنگال کی تہذیب کے بارے میں انھیں (بی جے پی کو) کچھ نہیں معلوم۔ انھیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ربیندر ناتھ شانتی نکیتن میں پیدا ہوئے تھے یا نہیں۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ’’وہ لوگ (بی جے پی والے) گاندھی جی، وویکانند کی عزت نہیں کرتے۔ وہ لوگ شاعر اور استاد کی کیا عزت کریں گے؟ ہمارا بنگال ویسے بھی سونار بانگلا ہے، وہ اسے کیا سونار بنائیں گے۔‘‘

Published: undefined

ممتا بنرجی نے بی جے پی پر شانتی نکیتن کا ماحول خراب کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انھوں نے بی جے پی پر طنز کستے ہوئے کہا کہ وہ لوگ بنگال میں آتے ہیں تو کسی قبائل کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن وہاں پر کھانا 5 اسٹار ہوٹل سے منگواتے ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ آئندہ سال مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے۔ انتخاب سے قبل وزیر داخلہ امت شاہ سے لے کر بی جے پی قومی صدر جے پی نڈّا سمیت کئی بڑے لیڈران ریاست کا دورہ کر چکے ہیں۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی لیڈروں کے ان دوروں پر بھی طنز کسا ہے۔ بنگال کی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’ریاست میں جلد انتخاب ہونے والے ہیں، اس لیے وہ یہاں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ باقی دنوں میں وہ یہاں دکھائی بھی نہیں دیں گے۔‘‘

Published: undefined

بی جے پی پر حملہ آور ہوتے ہوئے ممتا بنرجی نے یہ بھی کہا کہ ’’ان کے جلسوں میں لوگ کم اور جھنڈے زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن ہماری ریلی میں لوگ زیادہ اور جھنڈے کم ہوتے ہیں۔ ترنمول کانگریس بنگال کو بچانے کے لیے لڑائی لڑے گی۔ وہ بنگال کو ہائی جیک نہیں کر سکتے۔ وہ پیسے دے کر ایم ایل اے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن پوری پارٹی کو نہیں خرید سکتے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined