اکھلیش یادو اور ممتا بنرجی، تصویر بشکریہ @yadavakhilesh
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے منگل (27 جنوری) کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے کولکاتہ میں ملاقات کی اور ترنمول کانگریس پر اپنا بھروسہ دکھایا ہے۔ اکھلیش یادو نے آئی-پیک چھاپہ ماری معاملے میں بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’مغربی بنگال میں بی جے پی کی لڑائی ہارنے کی لڑائی ہے۔ یہاں کے لوگ دیدی (ممتا بنرجی) کے ساتھ ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے سیکولرازم کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ دیدی نے ای ڈی کو شکست دی ہے۔ بی جے پی پین ڈرائیو کا درد نہیں بھول پا رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ ’’دیدی نے ای ڈی کو ہرایا ہے، وہ بی جے پی کو ہرائیں گی۔ بی جے پی اب بھی پین ڈرائیو کا درد نہیں بھولی ہے۔‘‘ اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ ’’بنگال سے انسانیت اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیا تھا۔ وہاں تشدد یا سیاست نہیں چلے گی۔ ای ڈی بھی دیدی سے ہار گئی ہے۔ بی جے پی پین ڈرائیو کا درد نہیں بھول پائی۔ اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ بی ج پی یہاں بھی ہارے گی۔ یہاں کے لوگ محبت کے گیت سنتے ہیں نفرت کے نہیں۔‘‘
Published: undefined
سماجوادی پارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’’ہم سب دیدی کو سپورٹ کریں گے۔ ایس آئی آر اصل میں این آر سی ہے۔ اتنے دنوں سے ووٹ چوری کی بات ہو رہی تھی، لیکن دیدی نے ڈیجیٹل ووٹ چوری روک دی ہے۔ انہوں نے ای ڈی، سی بی آئی اور آئی ٹی کے بدولت مہاراشٹر جیتا ہے۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ رواں ماہ 8 تاریخ کو ای ڈی نے آئی-پیک سربراہ پرتیک جین کے گھر اور آفس پر چھاپہ مارا تھا۔ تلاشی مہم کے دوران ترنمول سپریمو ممتا بنرجی دونوں جگہوں پر پہنچی تھیں۔ ریاستی پولیس کے ڈی جی راجیو کمار اور کولکاتہ پولیس کمشنر منوج ورما ان کے ساتھ تھے۔ ممتا بنرجی پر آئی-پیک آفس سے کاغذات ای ڈی کے ہاتھوں سے چھیننے کے الزام عائد ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی ای ڈی کا استعمال کر کے ترنمول کے امیدواروں کی فہرست ضبط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے ممتا بنرجی اس سے متعلق معلومات، فائلیں اور پین ڈرائیو لے کر چلی گئیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined