
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے عمل پر سخت اعتراض کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ کولکاتا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے دانستہ طور پر اقلیتی طبقے کے ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق شکایات مسلسل موصول ہو رہی ہیں اور صورتحال تشویشناک ہے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ اقلیتوں کی اکثریت والے ضلع مالدہ میں تقریباً نوے ہزار ووٹروں کے نام حتمی فہرست سے ہٹانے کی تیاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نشانہ صرف اقلیتی طبقہ نہیں بلکہ متوا، راج بنشی اور آدی واسی جیسے پسماندہ طبقات کے ووٹر بھی اس کارروائی کی زد میں ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نامور دانشور امرتیہ سین اور شاعر جئے گو سوامی جیسے معروف افراد کے نام بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جو اس عمل کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست میں کسی بھی طرح کی بدنظمی یا اشتعال انگیزی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مرشدآباد کے بیلڈانگا علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے ضبط اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق جھارکھنڈ میں ایک مقامی مہاجر مزدور کی مبینہ ہلاکت کے بعد اس کا جسدِ خاکی لائے جانے پر حالات کشیدہ ہوئے، تاہم عوام کو افواہوں سے دور رہنا چاہیے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں دانستہ طور پر تشدد کو ہوا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی کا کردار ہے، جبکہ مرکزی ایجنسیاں بھی مبینہ طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں مغربی بنگال کے مہاجر مزدوروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ وہ ایسے تمام معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کی حکومت و ترنمول کانگریس متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم انہوں نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں ہوئی کارروائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے متعلق معاملے میں ریاستی پولیس کی ایف آئی آر پر روک لگائی گئی تھی اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری ہوئے تھے۔
Published: undefined