
آئی اے این ایس
لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں پیش آئے کوچنگ ادارے کے المناک آتشزدگی حادثے کے بعد کانپور ترقیاتی اتھارٹی نے شہر کے اہم تعلیمی مرکز کاکادیو میں بڑے پیمانے پر جانچ مہم شروع کر دی ہے۔ حفاظتی انتظامات اور عمارتوں سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کے خدشات کے پیش نظر متعدد کوچنگ اداروں کا معائنہ کیا گیا اور کئی مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے عمارتوں کو سیل کر دیا گیا۔
Published: undefined
جانچ کے دوران کئی کوچنگ اداروں کو خالی بھی کرایا گیا۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ اس کے بیچ میں تقریباً 40 سے 50 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس نے کہا کہ لکھنؤ کے حادثے میں بڑا جانی نقصان ہوا ہے اور ایسے حالات میں تمام کوچنگ اداروں کے حفاظتی انتظامات کی مکمل جانچ ضروری ہے تاکہ آئندہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ایک طالبہ نے بتایا کہ دورانِ کلاس اچانک انہیں باہر جانے کے لیے کہا گیا اور بتایا گیا کہ ادارے کو سیل کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق اس کے بیچ میں تقریباً 60 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ طالبہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جا رہے اقدامات درست ہیں اور اگر کسی ادارے کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حفاظتی معیار میں کہیں نہ کہیں کمی موجود رہی ہوگی۔
Published: undefined
طالب علم پرتومن یادو نے بھی انتظامیہ کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی ضابطوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے کوچنگ ادارے کو سیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب متعلقہ ادارے تمام ضروری دستاویزات اور حفاظتی تقاضوں کو پورا کر لیں گے تو انہیں دوبارہ کھولنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
کانپور ترقیاتی اتھارٹی کے سکریٹری ابھے پانڈے نے بتایا کہ لکھنؤ کے حادثے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے پورے اتھارٹی علاقے میں خصوصی جانچ مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کوچنگ ادارے چل رہے ہیں یا تہہ خانوں میں کسی قسم کی سرگرمیاں جاری ہیں، وہاں خصوصی توجہ کے ساتھ معائنہ کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے بتایا کہ پیر کے روز سے اب تک تقریباً 30 عمارتوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ متعدد کوچنگ اداروں کو سیل کیا گیا ہے جبکہ کئی دیگر کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نشان زد عمارتوں کے خلاف کارروائی مسلسل جاری رہے گی اور حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined