
کانگریس نے مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات تنہا لڑنے کا جو فیصلہ کیا، نتائج نے اس کے مثبت اثرات ظاہر کر دیے ہیں۔ کانگریس نے ریاست میں میونسپل کارپوریشن انتخابات میں جس طرح ٹھاکرے برادران اور پواروں سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کانگریس کے سرکردہ لیڈران ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ سبھی پارٹی کارکنان کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
کانگریس کی کارکردگی کو حوصلہ افزا اس لیے ٹھہرایا جا رہا ہے کیونکہ 2869 سیٹوں میں سے پارٹی نے صرف 528 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے، اس کے باوجود 29 میونسپل کارپوریشنز میں کانگریس نے 317 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بی جے پی اور ٹھاکرے فیملی کے درمیان ہوئی انتخابی جنگ میں کانگریس نے بھی اپنی مضبوط موجودگی کا احساس کرایا ہے۔ اس نتیجہ سے کانگریس نے یہ پیغام بھی سبھی پارٹیوں کو دے دیا ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
Published: undefined
مہاراشٹر بلدیاتی انتخاب میں بی جے پی 1441 سیٹوں کے ساتھ پہلے اور ایکناتھ شندے کی شیوسینا 408 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ضرور رہی، لیکن کانگریس نے بھی 317 سیٹیں حاصل کر تیسرا مقام حاصل کیا ہے۔ مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات کے اس ریزلٹ نے کم از کم 4 پارٹیوں کے لیے غور و فکر والے حالات پیدا کر دیے ہیں۔ وہ 4 پارٹیاں شیوسینا یو بیٹی، ایم این ایس اور دونوں منقسم این سی پی ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر میں کانگریس نے تنہا انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ تب لیا تھا، جب ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے میں اتحاد کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں، اور شرد پوار نے اجیت پوار گروپ کے ساتھ ہاتھ ملا کر ’مہاوکاس اگھاڑی‘ کی بنیاد ہلا دی تھی۔ اب ریزلٹ سامنے آنے کے بعد یقیناً ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار کو نہ صرف اپنی غلطی کا احساس ہوا ہوگا، بلکہ کانگریس کی عوام میں موجود مقوبلیت کا بھی اندازہ ہوا ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined