
سی بی آئی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے معروف مہادیو آن لائن سٹے بازی ایپ کیس میں 11 نئی چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ اسے ملک کے سب سے بڑے غیر قانونی آن لائن بیٹنگ نیٹورک کے خلاف ایجنسی کی ایک بڑی کارروائی سمجھا جا رہا ہے۔ اس کارروائی سے بیرون ملک سے چلنے والے کروڑوں روپے کے غیر قانونی بیٹنگ نیٹورک کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ایک معاملے میں سی بی آئی نے آشیش داس، روہت گلاٹی، وکاس چھپاریہ، انل دھمنی، وشال آہوجا اور دھیرج آہوجا سمیت 6 ملزمان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ، 1988 اور آئی پی سی کی دھوکہ دہی، جعل سازی اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات کے تحت 6 چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ سی بی آئی نے کیس کے کلیدی ملزم اور مبینہ سرغنہ سوربھ چندراکر اور روی اپل کے خلاف بھی اضافی ثبوت عدالت میں پیش کیے ہیں۔ ان دونوں کے خلاف پہلے ہی چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔
ایک دوسرے معاملے میں سی بی آئی نے سوربھ چندراکر، روی اپل اور بیٹنگ سنڈیکیٹ سے وابستہ کئی اراکین سمیت 66 افراد کے خلاف 5 مزید چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ ان چارج شیٹس میں آئی پی سی اور چھتیس گڑھ جوا امتناعی ایکٹ کی متعلقہ دفعات لگائی گئی ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ پینل غیر قانونی کمائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام کرتے تھے۔
’مہادیو ایپ‘ کو ملک کے سب سے بڑے غیر قانونی آن لائن بیٹنگ نیٹورکس میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق سوربھ چندراکر اور روی اپل نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی، جس کی وجہ سے یہ ایپ لاکھوں لوگوں تک پہنچی اور ملک بھر میں اس کا ایک وسیع نیٹورک قائم ہو گیا۔ تحقیقات کے مطابق یہ گروہ کئی ریاستوں میں غیر قانونی سٹے بازی کے متعدد پینل چلاتا تھا۔ اس کے ذریعے لوگوں کو جوڑا جاتا تھا، سٹے بازی کرائی جاتی تھی اور کروڑوں روپے کی غیر قانونی کمائی کی جاتی تھی۔ الزام ہے کہ اس رقم کو کئی خفیہ بینک کھاتوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کر کے بیرون ملک بھیجا جاتا تھا۔ تحقیقات کے مطابق غیر قانونی کمائی کا ایک حصہ کچھ سرکاری ملازمین کو مبینہ طور پر ’پروٹیکشن منی‘ کے طور پر دیا گیا تھا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نیٹورک کے پروموٹر اور ان کے کئی اہم شراکت دار چند سال قبل ہندوستان چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے تھے۔ الزام ہے کہ وہ مغربی ایشیا کے بعض ممالک سے اس پورے نیٹورک کو چلا رہے تھے۔ سی بی آئی 4 کلیدی ملزمان کے خلاف پہلے ہی ریڈ کارنر نوٹس جاری کروا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں مفرور اقتصادی مجرم قرار دلوانے کی قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
سی بی آئی نے کہا کہ اس پورے نیٹورک کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ ایجنسی اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ اس معاملے میں مبینہ طور پر کس حد تک سیاسی اور بیوروکریٹک پشت پناہی حاصل تھی۔ سی بی آئی نے اشارے دیے ہیں کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ آنے والے مہینوں میں مزید چارج شیٹ بھی داخل کی جا سکتی ہیں۔ فی الحال ایجنسی پورے نیٹورک کا پردہ فاش کرنے اور اس میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔