’اب نہیں چلے گی لاپرواہی، ذمہ دارا افسران بھی ہوں گے جوابدہ‘، دہلی-یوپی سے گروگرام تک غیرقانونی تعمیرات پر سپریم کورٹ سخت

عدالت نے مالویہ نگر میں لگنے والی آگ، لکھنؤ میں آگ کا واقعہ اور ساکیت میں عمارت گرنے جیسے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>
i

دہلی میں تیزی سے بڑھ رہی غیرقانوی تعمیرات اور سیکورٹی قوانین کی خلاف ورزی کے باعث آگ لگنے کے واقعات پر سپریم کورٹ نے جمعرات کو سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ ذمہ دار افسران خود کارروائی کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب عدالت ایسے احکامات جاری کرے گا جن کا اثر کئی لوگوں پر پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اب لاپرواہی کرنے والے افسران کی ذاتی ذمہ داری طے کی جائے گی۔ اب سب کچھ احکامات میں صاف صاف لکھا جائے گا۔

عدالت نے مالویہ نگر میں لگنے والی آگ، لکھنؤ میں آگ کا واقعہ اور ساکیت میں عمارت گرنے جیسے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے ساکیت، لاجپت نگر اور سروجنی نگر کے علاقوں کا معائنہ کرانے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی اس کے لیے ایک ٹیم تشکیل دینے کا حکم بھی دیا۔ اس ٹیم میں آئی آئی ٹی دہلی کے 2 سینئر پروفیسرز، 2 ڈرافٹسمین اور ایم سی ڈی کے افسران شامل ہوں گے۔ یہ ٹیم ان علاقوں میں عمارتوں کی صورتحال اور ضوابط پر عملدرآمد کی جانچ کرے گی۔ اگر کوئی خامی پائی گئی تو کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے افسران کو سماعت کی اگلی تاریخ 4 اگست کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت بھی جاری کی۔


سپریم کورٹ نے گروگرام سے متعلق ایک اخبار کی خبر کا ازخود نوٹس لیا، جس میں کہا گیا ہے کہ گروگرام کی 93 فیصد عمارتوں میں فائر سیفٹی کے لازمی انتظامات موجود نہیں ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے گروگرام ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین کو اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو بھی طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف بلڈرز وغیرہ کو ہی گرفتار کیا جا رہا ہے، ان افسران کو نہیں جو ان علاقوں کے انچارج ہیں جہاں بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ اب ہم احکامات جاری کریں گے اور اس سے بہت سے لوگوں کو پریشانی ہوگی۔ ہم افسران پر ذاتی ذمہ داری ڈالیں گے اور تحریری طور پر اپنی بات رکھیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔