
یو پی آئی / آئی اے این ایس
مدھیہ پردیش اور پنجاب میں پٹرول پمپ ڈیلر 16 اکتوبر سے 2000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیاں بند کر دیں گے۔ اس کی وجہ مجوزہ 0.4 فیصد ایم ڈی آر فیس کو بتایا گیا ہے۔ ڈیلروں کا کہنا ہے کہ کم منافع کی وجہ سے وہ اضافی لاگت برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ حکومت سے یو پی آئی لین دین پر بھی ایم ڈی آر سے رعایت دینے کی اپیل کر رہے ہیں، جیسا کہ ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی پر ملتی ہے۔ مدھیہ پردیش پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر اجے سنگھ نے کہا کہ یہ فیصلہ مجوزہ ایم ڈی آر فریم ورک اعلان کے بعد لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر پٹرول پمپ پر اوسطاً تقریباً 100 صارفین 2000 روپے سے زیادہ کا لین دین کرتے ہیں۔ اس سے ہر روز تقریباً 590 روپے کا نقصان ہوگا، جو ہر ماہ تقریباً 17700 روپے بنتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر اجے سنگھ نے کہا کہ ہم اس رقم کو وصول نہیں کر سکتے، کیونکہ ہمارا پروفٹ مارجن بہت کم ہے۔ ہم صرف تقریباً 0.5 فیصد پروفٹ کما پاتے ہیں، ایسے میں ہم کوئی اضافی خرچ برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ حالانکہ انہوں نے بتایا کہ لوگ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کر سکتے ہیں، اس میں کوئی دقت نہیں ہے اور بغیر کسی حد کے اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ حکومت پر ہے۔ ہمیں پہلے ہی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشن پر ایم ڈی آر چارج سے رعایت مل چکی ہے۔ اس لیے ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان خاص حالات کو دیکھتے ہوئے یو پی آئی کو بھی یہی رعایت دے، جیسا کہ پٹرول پمپوں کو کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشن پر رعایت دی گئی تھی۔
وہیں پنجاب میں بھی پٹرول پمپ ڈیلروں نے 16 اکتوبر سے 2000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیاں قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر پرمجیت سنگھ دوآبا نے کہا کہ پٹرول ڈیلر مجوزہ یو پی آئی ٹرانزیکشن چارج کو برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ کیونکہ پٹرول پمپ ڈیلروں کو پہلے ہی کم مارجن کی وجہ سے آپریشنل اخراجات پورے کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کو طے کرنا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے، اس لیے ہم 2000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگیاں قبول نہیں کریں گے۔ پھر بھی صارفین کی سہولت کے لیے ہم نے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ دونوں کی سہولت رکھی ہے۔ پرمجیت سنگھ نے اس سلسلے میں وزارت کے ساتھ ساتھ آئی او سی ایل، بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل کو بھی خط لکھا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔