بی جے پی حکومت کی آمد اور مغربی بنگال میں عیسائیوں و گرجا گھروں پر حملہ!... آکار پٹیل
ہندوستان بھر کے مسلمان طویل عرصے سے ہندوتوا کے حقیقی اور واحد مقصد کو پہچانتے آئے ہیں، بدقسمتی سے اب بنگال کے عیسائی بھی اس حقیقت سے واقف ہو رہے ہیں۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد بنگالی عیسائیوں اور ان کے گرجا گھروں پر حملے شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ ہم میں سے کچھ لوگوں نے ’کاروانِ محبت‘ (سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر کی تنظیم) کی قیادت میں ریاست بھر کے عیسائیوں کی زبانی ان واقعات کی روداد سنی۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ایک نیا سلسلہ ہے، جسے حکومت کی جانب سے نہ صرف برداشت کیا جا رہا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔ ہمارا یہ بھی اندازہ تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان واقعات میں تیزی آئے گی۔
ہم میں سے ایک، ترنمول کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ جواہر سرکار نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ حملے اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ غنڈے خود کو پارٹی لیڈر کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ریاست میں مقامی سطح پر بی جے پی کی تنظیمی موجودگی نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے یہ جگہ ایسے لوگوں نے لے لی ہے جو تشدد کے ذریعہ اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ متاثرین کی روداد سننے کے بعد یہ بات قابل یقین معلوم ہوتی ہے اور اسی سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان حملوں میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔
یہ واقعات اُن واقعات سے ملتے جلتے ہیں جو دوسری بی جے پی حکمراں ریاستوں میں پیش آتے رہے ہیں، مثلاً اڈیشہ اور چھتیس گڑھ۔ ہجوم ان مقامات پر پہنچ کر حملے کرتا ہے جہاں لوگ عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ مقامات کبھی گاؤں کے گرجا گھر ہوتے ہیں اور کبھی لوگوں کے اپنے مکانات۔ کئی مواقع پر گرجا گھروں کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ ایک واقعہ میں صلیب کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہاں جمع لوگوں کو گالیاں دی جاتی ہیں، انھیں مارا پیٹا جاتا ہے۔ عبادت کرنے والی خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا اور بعض اوقات ان کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔ کچھ واقعات میں تو عیسائی بچوں کو بھی تھپڑ مارے گئے۔ پادریوں کے ساتھ سب سے زیادہ سخت سلوک کیا جاتا ہے۔ املاک لوٹ لی جاتی ہیں اور عموماً متاثرین ہی کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ ایک اسٹڈی کے مطابق مغربی بنگال میں مئی میں بی جے پی کے برسر اقتدار ہونے کے بعد سے اب تک 48 حملے ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 33 واقعات میں کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔
ایک واقعہ میں ایک پادری پر اس کے گھر میں حملہ کیا گیا، لیکن حملہ آوروں کی شکایت کو ان کے اپنے حملے اور غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے کے واقعے سے زیادہ اہمیت دی گئی اور پادری کو ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جیل میں رکھا گیا۔ یہ بھی ایک ایسا ہی مشہور طریقہ ہے جب پولیس حکومت کے نظریے سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی کا موقف کیا ہے، اس بارے میں ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ حملہ آوروں کو اس بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ بعض عبادت گزار خواتین چوڑیاں اور سندور لگاتی ہیں۔ یہ تصور کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں عقیدہ اور مذہبی وابستگی میں لچک ہو، جہاں کوئی شخص مندر، گرودوارے اور درگاہ جا سکتا ہو اور تینوں مقامات پر عقیدت رکھ سکتا ہو، اب ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے۔
یہاں چند دوسری باتیں بھی قابل غور ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کم از کم اب تک بڑے اور مشہور گرجا گھروں کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رومن کیتھولک گروپ اور کولکاتا سمیت دیگر شہروں کے قائم شدہ گرجا گھروں کو ہجوم نے جان بوجھ کر حملوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اس کے پیچھے غالباً ایک حکمت عملی ہے، کیونکہ اگر بی جے پی کے ہجوم مدر ٹریسا کے مشنریز آف چیریٹی جیسے اداروں میں توڑ پھوڑ کریں گے تو ہندوستان کے اندر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی شدید مخالفت ہوگی۔
دوسری بات یہ ہے کہ بنگالیوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف اپنی روایات اور لبرل مزاج کی وجہ سے وہ اس طرح کی نفرت سے محفوظ ہیں۔ ہندوستان کے باقی حصے اس بات کی روشن مثال ہیں کہ معاشرے کتنی آسانی سے اس راستے پر چل پڑتے ہیں اور اس کی مخالفت کتنی کم ہوتی ہے، خاص طور پر حکومت کی جانب سے۔ آئی پی ایس افسران اور اعلیٰ بیوروکریٹس میں اس بات کی دلچسپی تقریباً صفر ہے کہ وہ درست کام کریں، بجائے اس کے کہ وہ وہی کریں جو حکومت ان سے چاہتی ہے۔ ممکن ہے اس کے علاوہ بھی کچھ لوگ ہوں، لیکن اپنی پوری زندگی میں مجھے صرف 2 ایسے آئی اے ایس افسر یاد آتے ہیں جنھوں نے ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی فرقہ واریت کے معاملے پر اصولوں کی خاطر استعفیٰ دیا۔ ان میں سے ایک ہرش مندر تھے، جنھوں نے 2002 کے قتل عام کے بعد استعفیٰ دیا تھا، اور دوسرے کنن گوپی ناتھن تھے، جنھوں نے 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔ بس یہی 2 مثالیں ہیں۔ راجیہ سبھا کی رکنیت کے 2 سال باقی ہونے کے باوجود جواہر سرکار نے 2024 میں آر جی کر عصمت دری کے معاملے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔
عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جو لوگ کئی دہائیوں تک بظاہر معمول کے مطابق نظر آتے ہیں، وہ اچانک اپنا رویہ بدل لیتے ہیں اور جوش و خروش کے ساتھ اکثریت پرستی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے وزیر خارجہ کو ہی قریب سے دیکھیے۔ سر پینڈرل مون نے ہندوستان پر برطانوی قبضے اور تسلط کے بارے میں اپنی 2 جلدوں پر مشتمل کتاب میں سوال اٹھایا تھا کہ ’’یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک دور دراز ملک سے آنے والے محض مٹھی بھر غیر ملکی ایک ایسے وسیع برصغیر کے مالک بن بیٹھے، جس کے باشندوں کی تعداد کئی ملین تھی؟‘‘ ان کا جواب یہ تھا کہ انگریزوں نے خود ہندوستانیوں کی مدد اور ملی بھگت سے اس ملک کو فتح کیا اور پھر ایک صدی تک ہندوستانیوں کے تعاون سے ہی اس پر حکومت کی۔ آج بھی یہی صورت حال دہرائی جا رہی ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے خود کو سیکولر آئین کا پابند قرار دیا تھا، عہدوں اور اقتدار کے لالچ میں اپنے اصولوں کا سودا کر رہے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ یہ بی جے پی کے دور حکومت میں ہمارے آئین کو کمزور کرنے کے سلسلے کا ہی ایک حصہ ہے۔ دفعہ 19 کے تحت پُرامن اجتماع کا حق ختم ہو چکا ہے اور احتجاج کے لیے مخصوص مقامات، مثلاً جنتر منتر، جہاں پہلے بھی احتجاج کو گویا قبرستانوں تک محدود کر دیا گیا تھا، اب وہاں بھی احتجاج کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اسی طرح دفعہ 25 بھی اب کوئی حقیقی بنیادی حق نہیں رہ گیا ہے۔ یہ دفعہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ہم سب کو ’اپنے مذہب پر آزادانہ طور پر عمل کرنے، اس پر عقیدہ رکھنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔‘ لیکن یہ محض الفاظ ہیں، جن کا قوانین سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جو ہم دنیا کو بتاتے ہیں، جس کے ساتھ ’وسودھیو کٹمبکم‘ اور ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ جیسے عظیم مگر بے معنی نعرے بھی لگاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ ملک ہے جہاں مذہبی عقیدے کی تبلیغ اور اس پر عمل کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ ہندوستان بھر کے مسلمان طویل عرصے سے ہندوتوا کے حقیقی اور واحد مقصد کو پہچانتے آئے ہیں، بدقسمتی سے اب بنگال کے عیسائی بھی اس حقیقت سے واقف ہو رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
