قومی خبریں

مدھیہ پردیش: وزیر کے ذات سرٹیفکیٹ تنازعہ پر ہائی کورٹ سخت، کاسٹ اسکروٹنی کمیٹی کو 60 دنوں کے اندر جانچ مکمل کرنے کا حکم

کانگریس لیڈر پردیپ اہیروار نے رٹ پٹیشن دائر کر کے وزیر کے درج فہرست ذات کے سرٹیفکیٹ کی صداقت پرسوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ طویل عرصے سے زیر التوا شکایت عدالتی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مدھیہ پردیش ہائی کورٹ اندور بنچ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ اندور بنچ، تصویر سوشل میڈیا

 

مدھیہ پردیش شہری انتظامیہ کی وزیر مملکت پرتیما باگری کے ذات پات سرٹیفکیٹ سے متعلق معاملے میں ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ وزیر باگری کے ذات سرٹیفکیٹ تنازعہ پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ہائی لیول کاسٹ اسکروٹنی کمیٹی کو 60 دنوں کے اندر جانچ مکمل کر کے حتمی فیصلہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس وویک اگروال اور جسٹس اویندر کمار سنگھ کی ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ اس طرح کے حساس معاملات میں غیر ضروری تاخیر انصاف کے مفاد میں نہیں ہے۔

Published: undefined

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف اور منصفانہ طریقے سے کی جائیں، فریقین کو سننے کا پورا موقع دیا جائے۔ درخواست گزار اور ریاست کو حکم کی کاپی 30 اپریل 2026 تک کمیٹی کو بھیجنے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ معاملہ کانگریس لیڈر پردیپ اہیروار کی طرف سے دائر ایک رٹ پٹیشن (WP-8658-2026) سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے 31 مارچ 2025 کو وزیر کے درج فہرست ذات کے سرٹیفکیٹ کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک شکایت درج کرائی تھی۔ درخواست گزار نے الزام لگایا کہ طویل عرصے سے زیر التوا شکایت عدالتی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ اس سے قبل اسی معاملے پر دائر کی گئی ایک اور پٹیشن (WP-5948/2026) ’لوکس‘ واضح نہ ہونے کی وجہ سے واپس لے لی گئی تھی، جس سے وزیر کو عارضی راحت ملی تھی تاہم عدالت نے تب مستقبل میں مناسب عمل کے تحت معاملہ اٹھانے کی چھوٹ دی تھی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ پرتیما باگری ستنا ضلع کی رائے گاؤں (ایس سی) ریزرو سیٹ سے ایم ایل اے ہیں اور ان کے خلاف الزام ہے کہ وہ جس برادری سے تعلق رکھتی ہیں، وہ درج فہرست ذات کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ درخواست گزار نے فرضی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کا الزام لگایا ہے جب کہ وزیر نے ان الزامات کو مسلسل بے بنیاد قرار دیا اور اپنے دستاویزات کو درست بتایا۔ ہائی کورٹ کے حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر کمیٹی 30 جون 2026 تک کسی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام رہتی ہے تو درخواست کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات سامنے آنے کا امکان ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined