شام کے دورہ پر پہنچے فرانسیسی صدر میکروں کی سیکورٹی میں شدید لاپروائی، دمشق میں ہوٹل کے باہر زوردار دھماکہ

شام کی راجدھانی دمشق میں منگل کے روز 2 زوردار دھماکوں سے افرا تفری پھیل گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فرانسیسی صدر امینوئل میکروں شامی صدر احمد الشرع سے ایک اہم ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>امینوئل میکروں، تصویر ’فیس بُک‘</p></div>
i

فرانس کے صدر امینوئل میکروں اس وقت ملک شام کے دورہ پر ہیں۔ اس دورہ کے درمیان شام کی راجدھانی دمشق میں زوردار دھماکوں سے افرا تفری پھیل گئی ہے۔ یہ معلوم نہیں چل سکا ہے کہ ان دھماکوں میں جانی و مالی نقصان کتنا ہوا ہے اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس واقعہ کو فرانسیسی صدر کی سیکورٹی میں شدید لاپروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ دمشق میں ہوئے اس بم دھماکہ سے ان کی سیکورٹی سے متعلق فکر میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حالانکہ میکروں کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ صدر محفوظ ہیں اور وہ اپنا شام کا دورہ جاری رکھیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کی راجدھانی دمشق میں 7 جولائی (منگل) کو 2 زوردار دھماکے ہوئے، جس نے لوگوں میں دہشت پھیلا دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فرانسیسی صدر امینوئل میکروں شامی صدر احمد الشرع سے ایک اہم ملاقات کے لیے پریسیڈنٹ ہاؤس پہنچے ہوئے تھے۔ اس میٹنگ کے دوران ہی دمشق میں ’فور سیزنس ہوٹل‘ کے پاس دھماکے ہوئے۔ شامی افسران نے اس حادثہ کے بارے میں فوری کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا ہے۔


شامی میڈیا کے مطابق صدر میکروں دمشق میں رہائش کے دوران ’فور سیزنس ہوٹل‘ میں ہی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ دھماکوں کے بعد فرانسیسی صدر دفتر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میکروں پوری طرح محفوظ ہیں اور ان کا دورۂ شام مقررہ پروگرام کے مطابق جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دمشق کے وسطی علاقہ میں ہوئے دونوں دھماکے آتشی مادہ سے کیے گئے۔ ان دھماکوں کے بعد جائے وقوع پر دھوئیں کا بڑا غبار اٹھتا دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہیں کچھ ویڈیوز میں ایک گاڑی آگ کی لپٹوں میں گھری دکھائی دے رہی ہے۔ سڑک پر خون کے دھبے بھی نظر آ رہے ہیں۔ یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ یہ خون کسی ہلاک شخص کا ہے یا پھر زخمی شخص کا۔ کسی بھی تنظیم نے فی الحال اس واقعہ کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کچھ دن قبل بھی دمشق کے جسٹس پیلیس کے پاس ایک کیفے میں دھماکہ ہوا تھا۔ اس واقعہ میں 10 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور دیگر 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔