قومی خبریں

زرعی قوانین کے خلاف مدھیہ پردیش کانگریس کی یلغار، 15 جنوری کو 2 گھنٹہ تک چکّہ جام کا اعلان

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے مرکز کے تینوں زرعی قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان قوانین سے زراعت کے ساتھ زرعی مصنوعات کے بازاروں پر کارپوریٹ کا قبضہ ہو جائے گا۔

تصویر @INCMP
تصویر @INCMP 

مدھیہ پردیش میں کانگریس نے 15 جنوری کو زرعی قوانین کے خلاف دو گھنٹے تک ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے کہا ہے کہ اس دن 2 منٹ کا ’ہارن-شنکھ ناد‘ ہوگا اور دو گھنٹے تک چکہ جام رکھا جائے گا۔ اس کے بعد 23 جنوری کو راج بھون کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

Published: 07 Jan 2021, 11:10 PM IST

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے جمعرات کو پارٹی ریاستی دفتر میں نامہ نگاروں سے اس پورے منصوبہ پر کھل کر گفتگو کی اور زرعی قوانین کے تعلق سے اپنی رائے کا بھی اظہار کیا۔ انھوں نے مرکزی حکومت کے تینوں زرعی قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین سے زرعی مصنوعات کے بازاروں پر کارپوریٹ گھرانوں کا قبضہ ہو جائے گا اور چھوٹے کاروباریوں کی تجارت اور تجارتی مقابلہ آرائی ختم ہو جائے گی۔ نتیجہ کار بڑے تاجر منمانی کریں گے۔

Published: 07 Jan 2021, 11:10 PM IST

کمل ناتھ نے ایم ایس پی کو قانونی شکل دینے کے ساتھ تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ کانگریس کے ذریعہ 7 سے 15 جنوری تک ایک دن کا دھرنا، مظاہرہ اور میٹنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ 15 جنوری کو دوپہر 12 بجے سے دو گھنٹوں تک کسانوں کے ذریعہ چکہ جام کیا جائے گا۔ اس چکہ جام کی شروعات اور آخر میں دو منٹ کا ’ہارن-شنکھ ناد‘ ہوگا۔ علاوہ ازیں 20 جنوری کو مرینا میں کسان مہاپنچایت ہوگی اور 23 جنوری کو راج بھون کا گھیراؤ ہوگا۔

Published: 07 Jan 2021, 11:10 PM IST

میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کمل ناتھ نے آر ایس ایس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور اس کی سیاسی شاخ جن سنگھ یا بی جے پی ہمیشہ ہی کارپوریٹ معاشی نظام کی حامی رہی ہے، جب کہ کانگریس کے علاوہ کمیونسٹ پارٹیاں اور سماجوادی پارٹی ہمیشہ سماجوادی معاشی نظام کی حامی رہی ہیں۔ انھوں نے مثال دے کر بتایا کہ آر ایس ایس اور جن سنگھ نے تو بڑے عوامی اداروں اور بڑے پشتوں کی بھی مخالفت کی تھی۔

Published: 07 Jan 2021, 11:10 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 07 Jan 2021, 11:10 PM IST