قومی خبریں

مدھیہ پردیش: بی جے پی کے تینوں راجیہ سبھا امیدوار بلامقابلہ منتخب، کانگریس کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار

کانگریس لیڈر بھوپیش بگھیل نے کہا کہ ’’آخری امید سپریم کورٹ سے ہی ہے۔ عدالت سے ہی ہمیں امید ہے اور پورا بھروسہ ہے۔ عدالت کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔‘‘

بی جے پی کا پرچم، تصویر آئی اے این ایس
بی جے پی کا پرچم، تصویر آئی اے این ایس 

مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا کی تینوں سیٹوں پر بی جے پی امیدوار بلا مقابلہ منتخب کر لیے گئے ہیں۔ بی جے پی نے ترون چُگ، رجنیش اگروال اور مہیش کیوٹ کو امیدوار بنایا تھا، ان تینوں کو ہی ریٹرننگ افسر نے فتح کا سرٹیفکیٹ دے دیا ہے۔ کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی رد ہونے کے بعد مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی 3 سیٹوں کے لیے انتخاب کرانے کی ضرورت نہیں پڑی۔

Published: undefined

راجیہ سبھا انتخاب کے لیے 18 جون کو ووٹنگ ہونی تھی۔ 11 جون کو پرچۂ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی۔ میناکشی نٹراجن کا پرچہ نامزدگی مسترد ہونے کے بعد میدان میں 3 ہی امیدوار بچے، اس لیے ووٹنگ کی ضرورت نہیں پڑی۔ حالانکہ کانگریس نے میناکشی کا پرچہ نامزدگی رد ہونے کا معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا ہے۔ اس معاملہ پر 12 جون کو سماعت بھی ہونی ہے۔ یعنی کانگریس کی اب پوری امید سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہے۔

Published: undefined

اس درمیان کانگریس لیڈر بھوپیش بگھیل نے کہا ہے کہ ’’آخری امید سپریم کورٹ سے ہی ہے۔ عدالت سے ہی ہمیں امید ہے اور پورا بھروسہ ہے۔ عدالت کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کی جسٹس پرشانت کمار شرما اور جسٹس اتل ایس چندورکر کی بنچ نے معاملے کی سماعت 12 جون کے لیے مقرر کی ہے۔ میناکشی کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ ابھشیک منو سنگھوی نے عرضی پر فوری سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے عدالت سے کہا تھا کہ نام واپس لینے کی آخری تاریخ ہے 11 جون ہے اور اگر معاملہ پر فوری سماعت نہیں ہوئی تو امیدوار کو آئندہ 6 سالوں تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ سبھی باتیں سننے کے بعد عدالت نے معاملہ 12 جون تک ملتوی کر دیا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ بی جے پی امیدوار مہیش کیوٹ کی شکایت کے بعد ریٹرننگ افسر نے نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی خارج کر دیا تھا۔ الزام ہے کہ انھوں نے اپنے پرچۂ نامزدگی کے ساتھ داخل حلف نامہ میں تلنگانہ میں زیر التوا ایک قانونی معاملے کی جانکاری نہیں دی تھی۔ حالانکہ نٹراجن نے ان الزامات کو سیاسی سازش قرار دیا ہے۔ انھوں نے حیدر آباد کی ایک عدالت میں داخل عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined