
لکھنؤ، تصویر/آئی اے این ایس
ہائی کورٹ کے حکم کے بعد لکھنؤ عدالتی احاطے میں غیر قانونی چیمبروں کے خلاف میونسپل کارپوریشن کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ چیمبروں کو منہدم کرنے کے لیے موقع پر بلڈوزر لگائے گئے ہیں۔ کارروائی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور پی اے سی کے جوان تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے خلاف بڑی تعداد میں وکلاء سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ وکلاء نے چیمبر توڑنے سے قبل متبادل انتظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق کچہری احاطے میں 200 سے زیادہ چیمبروں کو منہدم کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔ کارروائی شروع ہونے کے بعد وکلاء میں ناراضگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیمبر ان کے کام کاج کی اہم جگہ ہیں اور انہیں ہٹائے جانے سے بڑی تعداد میں وکلاء کے سامنے روزی روٹی اور پیشے سے متعلق مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
موقع پر موجود اے سی پی مغربی دھننجے کشواہا نے بتایا کہ چیمبروں پر سرخ نشان لگائے گئے ہیں اور تمام نشان زدہ چیمبروں کو توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جتنے چیمبر ہیں، سب پر سرخ نشان لگے ہیں، سب توڑے جائیں گے۔ کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ جب تک چیمبر نہیں ٹوٹیں گے، کارروائی جاری رہے گی۔ اس کی کوئی وقت کی حد نہیں ہے۔ 7 سے 8 بلڈوزر لگائے گئے ہیں اور ابھی مزید بلڈوزر آ رہے ہیں۔‘‘
کارروائی کی مخالفت کر رہے ایک وکیل ایس ڈبلیو نے ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ متبادل انتظام کیے بغیر چیمبر توڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے کم از کم 2000 وکلاء متاثر ہو رہے ہیں۔ دیوالی جیسے بڑے تہوار کے موقع پر ان کے سامنے کام کاج اور دفتر سے متعلق مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے وکلاء کے بیٹھنے اور کام کرنے کے لیے دوسری جگہ کا انتظام کیا جانا چاہیے تھا، اس کے بعد چیمبر ہٹائے جانے چاہیے تھے۔ چیمبر ٹوٹنے کے بعد وکلاء کہاں بیٹھ کر اپنے موکلوں سے ملیں گے اور وکالت کا کام کیسے کریں گے، انتظامیہ اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی ٹھوس متبادل انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو انصاف دلانے کا کام کرتے ہیں، لیکن اب اپنے مسائل کے حل کے لیے انہیں خود جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔