’حکم تھا 72 کا اور منہدم کر دیے 240 چیمبر‘، لکھنؤ سول کورٹ میں بلڈوزر کارروائی کے بعد وکلاء کا الزام

بلڈوزر کارروائی کے دوران کئی وکلاء کی طبیعت بگڑ گئی۔ کچھ وکلاء زمین پر بیٹھ کر مخالفت کرتے رہے تو کچھ نے کارروائی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامی افسران سے بحث کی۔

<div class="paragraphs"><p>لکھنؤ سول کورٹ میں بلڈوزر کارروائی (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں اتوار کو وکلاء کے غیرقانونی چیمبر پر ہوئی بلڈوزر کارروائی نے تنازعہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انتظامیہ کی کارروائی کے دوران بھاری پولیس فورس تعینات رہی اور مخالفت کر رہے وکلاء پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد بار ایسوسی ایشن اور وکلاء میں بھی شدید ناراضگی دیکھنے کو ملی ہے۔ وکلاء نے اسے ’جمہوری حقوق کو کچلنا‘ قرار دیتے ہوئے ایک بڑی تحریک کی وارننگ دی ہے۔

دراصل ہائی کورٹ نے کچھ غیرقانونی چیمبروں کو ہٹانے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد میونسپل کارپوریشن کی ٹیم کے ساتھ بڑی تعداد میں پولیس فورس پہنچی اور چیمبپر توڑنے کی کارروائی شروع ہوئی۔ حالانکہ اس دوران وکلاء نے مخالفت بھی کی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔ وکلاء کا الزام ہے کہ ہائی کورٹ نے صرف 72 چیمبر کو ہٹانے کا حکم دیا تھا، لیکن انتظامیہ نے حکم کی آڑ میں تقریباً 240 چیمبروں پر کارروائی کر دی۔ ان کا کہنا ہے کہ جن چیمبروں کو نشان زد کیا گیا تھا، ان میں کئی وکلاء کے چیمبر شامل نہیں تھے، باوجود اس کے اسے بھی منہدم کر دیا گیا۔


واضح رہے کہ بلڈوزر کارروائی کے دوران کئی وکلاء کی طبیعت بھی بگڑ گئی۔ کچھ وکلاء زمین پر بیٹھ کر مخالفت کرتے رہے تو کچھ نے کارروائی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامی افسران سے بحث کی۔ موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات رہی اور پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ وکلاء کا کہنا ہے وہ گزشتہ تقریباً 30 سالوں سے وہیں بیٹھ کر وکالت کر رہے ہیں اور اچانک اس طرح کی کارروائی ان کے روزگار پر براہ راست حملہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے انتظامیہ پر منمانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے تو پہلے ان کے لیے متبادل انتظام کیا جانا چاہیے تھا۔

احتجاج کر رہے وکلاء نے وارننگ دی ہے کہ اگر انتظامیہ نے کارروائی نہیں روکی اور مناسب حل نہیں نکالا تو ریاست بھر میں ایک تحریک شروع کی جائے گی۔ جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں ڈی سی پی ویسٹ کملیش دیکشت کا بھی بیان آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام کو نوٹس دیا جا چکا ہے۔ عدالت کے حکم پر کارروائی ہو رہی ہے، ایسے کاموں میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم تیار ہیں ایسی کارروائی کے لیے، قانون سب کے لیے برابر ہے۔