گیس ایجنسی کے باہر صارفین کی لائن (فوٹو سوشل میڈیا)
ویڈیو گریب
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہندوستان میں گیس کا بحران شدید ہوتا جارہا ہے۔ کئی صوبوں میں گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی لمبی لائنیں لگ رہی ہیں اور ایک سلنڈر کے لیے لوگ کئی کئی گھنٹے لائن میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ ان حالات میں اتر پردیش کے جالون ضلع میں ایک انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں شادی کی تیاریوں کے درمیان گیس سلنڈر کی قلت سے پریشان خاندان ضلع انتظامیہ سے مدد کی فریاد کررہے ہیں۔
Published: undefined
جالون کے تحصیل کونچ علاقے کے چمیڑ گاؤں کی رہنے والی ایک خاتون اپنی بیٹی کی شادی کے لیے گیس سلنڈر کی درخواست لے کر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر پہنچ گئی۔ اس دوران دلہن اور خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق چمیڑ گاؤں کی رہائشی موہنی اہلیہ اومجی کھیمریا ہفتہ کو ضلع مجسٹریٹ کے دفتر پہنچیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راجیش کمار پانڈے کو ایک شکایتی خط سونپتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی نندنی کی شادی 20 اپریل 2026 کو مقرر ہے۔ شادی کی تیاریوں کے لیے انہیں تقریباً 17 گیس سلنڈروں کی ضرورت ہے لیکن انہیں ضروری سلنڈر نہیں مل پارہے ہیں۔
Published: undefined
موہنی نے بتایا کہ وہ کونچ میں دیویلیا گیس ایجنسی کی کسٹمر ہیں لیکن شادی کے لیے اضافی سلنڈر کا بندوبست نہیں ہوپا رہا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے ضروری گیس سلنڈر فراہم کرنے کی خصوصی اجازت دی جائے تاکہ شادی کی تقریب کے دوران کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ اس دوران دلہن نندنی بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر پہنچی۔ شادی کی تیاریوں کے حوالے سے اہل خانہ میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ کھانا پکانے اور دیگر انتظامات کے لیے گیس سلنڈر کی ضرورت ہے لیکن محدود تعداد میں سلنڈر دستیاب ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
Published: undefined
معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے متعلقہ افسران کو ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قواعد کے مطابق تحقیقات کے بعد مناسب حل نکالا جائے گا۔ یہ معاملہ علاقے میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شادیوں جیسے اہم مواقع پر گیس سلنڈر کی دستیابی کو یقینی بنانے سے خاندانوں کو راحت ملے گی۔ انتظامی سطح پر ایسے معاملات کے فوری حل کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined