آر بی آئی نے نہیں فروخت کیا 12 لاکھ کروڑ کا سونا، میڈیا رپورٹس کو بتایا غلط

آر بی آئی کے مطابق ہندوستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں سونے کی حصہ داری ستمبر 2025 کے آخر میں 13.92 فیصد سے بڑھ کر 31 مارچ 2026 کو 16.70 فیصد اور 22 مئی 2026 تک 16.85 فیصد ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آر بی آئی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے سونے کی فروخت کی خبروں کو بدھ (3 جون) کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ فزیکل گولڈ ریزرو میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور یہ 880.52 ٹن پر مستحکم ہے۔ آر بی آئی نے ان خبروں کے بعد یہ وضاحت پیش کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے اثر سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی حفاظت کے لیے مرکزی بینک نے تقریباً 12 ارب ڈالر کی قیمت کا سونا فروخت کر دیا ہے۔

مرکزی بینک نے ایک بیان میں کہا کہ آر بی آئی زور دے کر کہتا ہے کہ یہ خبریں صحیح نہیں ہیں۔ اس نے عام لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایسے معاملات میں آر بی آئی کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی سرکاری معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔ اس درمیان ’پی آئی بی‘ نے بھی ان خبروں پر فیکٹ-چیک رپورٹ جاری کر دی ہے۔ آر بی آئی کے مطابق ہندوستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں سونے کی حصہ داری ستمبر 2025 کے آخر میں 13.92 فیصد سے بڑھ کر 31 مارچ 2026 کو 16.70 فیصد اور 22 مئی 2026 تک 16.85 فیصد ہو گئی ہے۔


واضح رہے کہ آر بی آئی کی جانب سے یہ ردعمل ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے بعد آیا ہے، جس میں بلومبرگ اکنامکس کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے سنٹرل بینک نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مضر اثرات سے اپنے غیر ملکی کرنسی کے اثاثوں کو بچانے کے لیے اپنے سونے کے ذخائر کا ایک حصہ فروخت کر دیا ہوگا۔ بی ای کے سینئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے لکھا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے 22 مئی تک کے 2 ہفتوں میں ممکنہ طور پر تقریباً 12 ارب ڈالر کی مالیت کا سونا فروخت کیا، جبکہ 7.5 ارب ڈالر کے غیر ملکی کرنسی اثاثوں کی خریداری کی۔ یہ گراوٹ اس قیمتی دھات پر امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے کے باوجود آئی، جس سے بینک کے سونے اور ڈالر کی مالیت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آر بی آئی سونا فروخت کر رہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ مبینہ فروخت ان خدشات کو ظاہر کرتی ہے جن کا سامنا ہندوستان کو مسلسل کیپٹل آؤٹ فلو اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آر بی آئی لیکویڈ فاریکس کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی بڑی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث روپے پر مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ کے آخر تک، مرکزی بینک کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا، جس میں سے 77 فیصد ملک کے اندر ہی رکھا گیا تھا۔ 6 ماہ قبل، اس نے اپنے سونے کا 66 فیصد ہندوستان میں ہی رکھا تھا۔


قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی نے اپریل میں اپنی ششماہی فاریکس رپورٹ میں بتایا کہ اس کے غیر ملکی ذخائر کا زیادہ تر حصہ بینک آف انگلینڈ اور بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس ہے۔ آر بی آئی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ریزرو بینک کے پاس کل 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا، جبکہ 31 مارچ 2025 تک یہ 879.58 میٹرک ٹن تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال سونے کی مقدار میں 0.94 میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آر بی آئی نے مالیاتی سال 26 کے دوران اپنے سونے کے ذخائر کو کم کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافہ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے پاس موجود کل 880.52 میٹرک ٹن سونے میں سے 312.32 میٹرک ٹن سونا ’ایشو ڈپارٹمنٹ‘ کے اثاثے کے طور پر رکھا گیا تھا، جبکہ باقی 568.20 میٹرک ٹن سونا ’بینکنگ ڈپارٹمنٹ‘ کے تحت رکھا گیا تھا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔