
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری، تصویر/آئی اے این ایس
مغربی بنگال حکومت نے کولکاتا کے چورباگان عوامی درگا پوجا پنڈال کے قریب 17 اکتوبر کو ہوئی بھگدڑ کی جامع تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ ریاستی حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے مشورے سے تشکیل دی گئی اس ٹیم کو واقعے کی وجوہات کا پتہ لگانے، ممکنہ لاپرواہی کی جانچ کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے تجاویز دینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ایس آئی ٹی کو حکم جاری ہونے کی تاریخ سے 3 ماہ کے اندر اپنی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرنی ہوگی۔
مغربی بنگال حکومت کے چیف سکریٹری منوج کمار اگروال کی جانب سے 21 اکتوبر کو جاری کردہ حکم کے مطابق ریٹائرڈ جج انندیتا رائے سرسوتی ایس آئی ٹی کی سربراہ ہوں گی۔ اس کے علاوہ ریاست کے محکمۂ آفات سے نمٹنے اور شہری تحفظ کے پرنسپل سکریٹری، اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس، مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کا ایک نمائندہ، محکمۂ داخلہ و پہاڑی امور کا ایک نمائندہ اور کولکاتہ میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کا ایک نمائندہ اس کے اراکین ہوں گے۔
حکم کے مطابق ایس آئی ٹی ضرورت پڑنے پر ریاستی حکومت سے کسی دوسرے افسر کو بھی تحقیقاتی ٹیم میں شامل کرنے کی درخواست کر سکتی ہے۔ ایس آئی ٹی کو یہ پتہ لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ 17 اکتوبر کو چورباگان عوامی درگا پوجا پنڈال کے قریب کن حالات میں بھگدڑ ہوئی۔ تحقیقاتی ٹیم واقعے کے وقت، مقام اور پورے سلسلے کی جانچ کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پتہ لگایا جائے گا کہ بھیڑ کا دباؤ اچانک کیسے بڑھا اور کس طرح یہ بھگدڑ میں تبدیل ہو گیا۔
تحقیقات کے دائرے میں حد سے زیادہ بھیڑ، خراب موسم، بارش یا آندھی طوفان، دروازے پر بھیڑ کو سنبھالنے کے انتظامات، افواہیں، بجلی کی خرابی، داخلے اور باہر نکلنے کے ناکافی انتظامات، ڈھانچے کی خامیاں اور بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے اقدامات میں ممکنہ کوتاہی جیسے پہلو شامل ہوں گے۔ ایس آئی ٹی تقریب کے مقام پر موجود لوگوں کی تخمینی تعداد، بھیڑ کی نقل و حرکت اور داخلے و اخراج کے راستوں کی بھی جانچ کرے گی۔ یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ وہاں جمع ہونے والی بھیڑ مقررہ یا مناسب اندازے کے مطابق محفوظ گنجائش سے زیادہ تھی یا نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔