ایران کے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کی رضامندی کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے نئی شرائط

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے تہران کے سات روزہ منصوبے کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اس میں اضافی شرائط شامل کرنے کی درخواست کی ہے

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>
i

تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے سات روزہ منصوبے کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس میں مزید کچھ شرائط شامل کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی مذاکرات جاری ہیں اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا معاملہ مجوزہ شرائط سے جڑا ہوا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق، عراقچی نے ’الاخباریہ‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران نے پہلے امریکی فریق کے سامنے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں تہران نے اپنی شرائط واضح طور پر بیان کی تھیں۔ امریکہ نے ان شرائط کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن ساتھ ہی کچھ اضافی شرائط شامل کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

عراقچی نے کہا کہ ایران کے منصوبے کے مطابق چھٹے روز آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولا جانا تھا۔ تاہم، امریکی فریق کی جانب سے اضافی شرائط کی درخواست کے بعد اس معاملے پر مزید بات چیت جاری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جب تک دونوں فریقوں کے درمیان کسی معاہدے یا اتفاق رائے تک نہیں پہنچا جاتا، آبنائے ہرمز کو سبھی کے لیے مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ جہازوں اور دیگر بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول پر لانے کے لیے واشنگٹن کو ایران کی شرائط قبول کرنا ہوں گی۔

عراقچی نے خبردار کیا کہ جب تک کوئی حتمی سمجھوتہ نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز اور اس کے موجودہ بحری راستوں سے گزرنے والی جہاز رانی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔


ایران کے وزیر خارجہ نے بحیرہ احمر میں پیش آنے والے واقعات میں تہران کے ملوث ہونے کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے ایران اور حوثیوں سے متعلق بحیرہ احمر کے معاملے کے درمیان کسی بھی تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حالات اور واقعات کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی اپنی الگ نوعیت اور وجوہات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان 14 نکاتی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت واشنگٹن کو تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے اور ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرنے کی بات شامل ہے۔ اس کے بدلے میں تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کا منصوبہ ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس لیے اس کے ذریعے جہاز رانی کی بحالی سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر بین الاقوامی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ تاہم، عراقچی کے بیان کے مطابق، اس معاملے میں حتمی پیش رفت کا انحصار دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اور شرائط پر اتفاق رائے پر ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔