
تصویر اے آئی
نئی دہلی: کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے پر مرکز کی مودی حکومت پر حملہ بولتے کہا ہے کہ پارٹی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے دی گئی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے 6 مئی 2025 کو ملکارجن کھڑگے کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا گیا خط شیئر کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط کے دو صفحات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ذات پر مبنی مردم شماری کے سلسلے میں کانگریس صدر کا 6 مئی 2025 کا وزیر اعظم کو لکھا خط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھڑگے کی پہلی اور بنیادی تجویز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ جے رام رمیش نے مزید کہا کہ کھڑگے کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی مانگ کے باوجود اب تک اس معاملے پر سیاسی جماعتوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
ملکارجن کھڑگے نے اپنے خط میں آئندہ مردم شماری میں ذات کو الگ زمرے کے طور پر شامل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔ تاہم انہوں نے زور دیا تھا کہ ذات پر مبنی مردم شماری صرف مختلف ذاتوں کی تعداد معلوم کرنے تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو وسیع تر سماجی اور اقتصادی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
کھڑگے نے مردم شماری کے سوالنامے کے ڈیزائن کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے تجویز دی تھی کہ ذات سے متعلق معلومات اس انداز میں جمع کی جائیں کہ مختلف ذاتوں کے سماجی و اقتصادی اعداد و شمار عوامی طور پر دستیاب ہو سکیں۔ ان کے مطابق اس سے ہر ذات کی سماجی و اقتصادی صورت حال کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی، جبکہ مختلف برادریوں کو ان کے آئینی حقوق دلانے اور سماجی و اقتصادی ترقی کی پیمائش کرنے میں بھی سہولت ہوگی۔
کانگریس صدر نے ریزرویشن سے متعلق قوانین کو آئین کی نویں شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ خط میں انہوں نے اگست 1994 میں تمل ناڈو کے ریزرویشن قانون کو نویں شیڈول میں شامل کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ دیگر ریاستوں کے ریزرویشن قوانین کو بھی اسی طرح آئینی تحفظ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
ملکارجن کھڑگے نے اپنے خط میں آئین کے آرٹیکل 15(5) کا بھی حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس شق کے تحت درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے نجی تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ خط میں اس سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کا بھی ذکر کرتے ہوئے مناسب قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
کھڑگے نے کہا تھا کہ ذات پر مبنی مردم شماری ملک کے پسماندہ، محروم اور حاشیے پر موجود طبقات کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق سماجی اور اقتصادی انصاف اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری کا انعقاد وسیع تر نقطۂ نظر کے ساتھ کیا جانا ضروری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔