ریپو ریٹ بڑھنے کے بعد ’لال نشان‘ پر بند ہوا شیئر بازار، سنسیکس 429 پوائنٹس ٹوٹا، نفٹی بھی پست
آر بی آئی کی جانب سے ریپو ریٹ میں اضافہ کے بعد سرکاری شعبہ کے بینک، میڈیا، پرائیویٹ بینک اور مالیاتی شیئرز نے کچھ مضبوطی دکھائی، تاہم آٹو اور دھات کے شیئرز میں بھاری فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔

ہندوستانی شیئر بازار میں بدھ کو بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ اس کی بڑی وجہ رہی ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے ریپو ریٹ میں اضافے کا اعلان۔ اس اعلان کے بعد سینسیکس 429.11 پوائنٹس گر کر 72,638.70 پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 173.05 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 22,603.05 کی سطح پر آ گیا۔ شیئر بازار میں یہ کمزوری مختصر بہتری کے بعد آئی ہے۔ کئی دنوں کی گراوٹ کے بعد گزشتہ کچھ دن بہتر رہے، لیکن آج پھر بڑی گراوٹ نے فکر میں مبتلا کر دیا۔
دراصل آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 5.50 فیصد کر دیا ہے۔ یہ سنٹرل بینک کی تقریباً 4 سال میں پہلی بار شرح سود میں اضافہ ہے۔ اس پالیسی پر مبنی فیصلہ کے باوجود بازار میں محتاط ردعمل دیکھنے کو ملا۔ ہنڈالکو کے شیئر میں 3 فیصد کی گراوٹ آئی۔ انفوسس کے شیئر بھی 2 فیصد نیچے گر گئے۔ نفٹی میٹل انڈیکس میں 2 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ درج کی گئی۔ نفٹی آٹو انڈیکس بھی 1.5 فیصد سے زیادہ گر گیا۔
آر بی آئی کی جانب سے ریپو ریٹ میں اضافہ کے بعد مختلف شعبوں میں رجحان ملا جلا رہا۔ سرکاری شعبہ کے بینک، میڈیا، پرائیویٹ بینک اور مالیاتی شیئرز نے کچھ مضبوطی دکھائی۔ تاہم، آٹو اور دھات کے شیئرز میں بھاری فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ صارفین کی پائیدار اشیا، ایف ایم سی جی اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے بھی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، فارما، تیل و گیس، سیمنٹ اور صحت خدمات کے شیئرز بھی دباؤ میں رہے۔
