1550 کی چیز 15490 روپے میں! ’ڈسٹ بِن‘ گھوٹالہ معاملہ پہنچا پٹنہ ہائی کورٹ، عدالت نے ریاستی حکومت سے مانگا جواب

سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل سنجیو کمار مشرا نے عدالت کے سامنے ڈسٹ بِن اور بائیو ڈیگریڈیبل بیگ کی خریداری کے عمل میں مبینہ طور پر بازار کی قیمت سے 10 گنا زیادہ رقم ادا کیے جانے کی تفصیلات پیش کیں۔

پٹنہ ہائی کورٹ
i

بہار کے سرکاری اسپتالوں میں بائیو میڈیکل ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے خریدے گئے مائیکرو ویو ڈسٹ بِن اور بائیو ڈیگریڈیبل بیگ کی قیمتوں کو لے کر اٹھا تنازعہ اب پٹنہ ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ بہار میڈیکل سروسز اینڈ انفراسٹرکچر کارپوریشن لمیٹڈ (بی ایم ایس آئی سی ایل) کی جانب سے کی گئی اس خریداری میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بدعنوانی کے الزامات پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے بہار حکومت کو 19 نومبر 2026 تک اس پورے معاملے پر اپنا جواب داخل کرنے کی سخت ہدایت دی ہے۔

پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وی کامیشور راؤ اور جسٹس پارتھ سارتھی کی ڈویژن بنچ نے عرضی گزار کوشلیش کمار کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کے سینئر وکیل سنجیو کمار مشرا نے عدالت کے سامنے ڈسٹ بِن اور بائیو ڈیگریڈیبل بیگ کی خریداری کے عمل میں مبینہ طور پر بازار کی قیمت سے 10 گنا زیادہ رقم ادا کیے جانے کی تفصیلات پیش کیں۔


مفاد عامہ کی عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’بی ایم ایس آئی سی ایل‘ نے سرکاری اسپتالوں کے لیے 75 لیٹر اور 45 لیٹر گنجائش والے مائیکرو ویو ڈسٹ بِن اور بائیو ڈیگریڈیبل بیگ کی فراہمی کے لیے ٹینڈر نکالا تھا۔ اس میں خریداری کی قیمت اور بازار کی قیمت کے درمیان بہت زیادہ فرق کا دعویٰ کیا گیا ہے:

  • 75 لیٹر ڈسٹ بِن: خریداری کی قیمت 15490 روپے بتائی گئی ہے، جبکہ مبینہ بازار کی قیمت تقریباً 1550 روپے ہے۔

  • 45 لیٹر ڈسٹ بِن: خریداری کی قیمت 11474 روپے طے کی گئی، جبکہ بازار کی قیمت تقریباً 1162 روپے ہونے کا دعویٰ ہے۔

  • 75 لیٹر بائیو ڈیگریڈیبل بیگ: خریداری کی قیمت 98 روپے فی بیگ، جبکہ بازار کی قیمت 8.50 روپے بتائی گئی ہے۔

  • 45 لیٹر بائیو ڈیگریڈیبل بیگ: خریداری کی قیمت 69 روپے فی بیگ، جبکہ بازار کی قیمت 5.75 روپے ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

عرضی گزار کے مطابق جون 2024 سے 18 اپریل 2026 کے درمیان مذکورہ چیزوں کی فراہمی کے لیے مجموعی طور پر 57 سپلائی آرڈر جاری کیے گئے تھے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹینڈر کے عمل کے تحت 18 فیصد جی ایس ٹی سمیت مجموعی خریداری کی قیمت تقریباً 307 کروڑ روپے طے کی گئی، جبکہ 4 دیگر سپلائز فرموں کے کوٹیشن کے مطابق ان تمام چیزوں کی مجموعی حقیقی قیمت محض 29 کروڑ روپے بنتی ہے۔ عرضی کے مطابق ٹینڈر کے بعد لکھنؤ واقع ’ایس ایس میڈیکل سسٹم‘ کو اس سپلائی کا ٹھیکہ دیا گیا۔


قابل ذکر ہے کہ ڈسٹ بِن گھوٹالہ معاملے میں اس سے قبل 8 ستمبر کو بھی سماعت ہوئی تھی، جس میں عدالت نے ریاستی حکومت کو صورتحال واضح کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اب ہائی کورٹ نے حکومت سے 19 نومبر تک حتمی طور پر اپنا موقف رکھنے کو کہا ہے۔ حالانکہ یہ تمام دعوے فی الحال مفاد عامہ کی عرضی میں لگائے گئے الزامات ہیں۔ خریداری کے عمل، ٹینڈر کی تکنیکی شرائط، معیار کے پیمانوں اور حقیقی ادائیگی سے متعلق ریاستی حکومت کا سرکاری جواب آنے کے بعد ہی صورتحال پوری طرح واضح ہو سکے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔