
بھوپال میں ’کسان مہاچوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایران کے سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ای کے ہدف بنا کر قتل کی غیر مبہم اور سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قانون اور خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا باضابطہ اعلان کیے بغیر کسی خودمختار ریاست کی قیادت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی نظام کے لیے نہایت تشویش ناک مثال ہے۔
Published: undefined
کھڑگے نے اپنے بیان میں کہا، ’’انڈین نیشنل کانگریس ایران کے سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ای کے ہدف بنا کر قتل کی، جو جنگ کے باقاعدہ اعلان کے بغیر ایک فوجی کارروائی میں انجام دیا گیا، غیر مبہم طور پر مذمت کرتی ہے۔ کانگریس اس گہرے غم کے موقع پر سپریم لیڈر کے اہل خانہ، ایران کے عوام اور دنیا بھر کی شیعہ برادری سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ ہم اس سنگین بحران کے دوران ان کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں۔‘‘
Published: undefined
انہوں نے مزید کہا، ’’ہندوستان کی خارجہ پالیسی آئین ہند کے آرٹیکل 51 کے مطابق تنازعات کے پرامن حل، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے عہد پر قائم ہے۔ خودمختار برابری، عدم مداخلت اور امن کے فروغ جیسے اصول ہماری تہذیبی اقدار کی بنیاد ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ وسودھیو کٹمبکم یعنی ’دنیا ایک خاندان ہے‘ کے تصور، مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے نظریے اور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی عدم الحاق پالیسی سے متصادم ہے۔‘‘
Published: undefined
کھڑگے نے بیان میں زور دیتے ہوئے کہا، ’’کسی خودمختار ریاست کی قیادت اور حکومتی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے طاقت کا ہدفی استعمال، چاہے وہ ایران میں ہو یا اس سے قبل وینزویلا میں، رجیم چینج کے نظریات اور جابرانہ یکطرفہ اقدامات کی تشویش ناک واپسی کی علامت ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی صریح خلاف ورزی ہے، جو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو ممنوع قرار دیتا ہے، اور آرٹیکل 2(7) کی بھی خلاف ورزی ہے جو کسی ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے مزید کہا کہ کسی برسر اقتدار سربراہِ مملکت کا ہدف بنا کر قتل ان بین الاقوامی اصولوں کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔ خودمختاری مشروط نہیں ہوتی اور سیاسی جواز طاقت کے ذریعے تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے آخر میں کہا، ’’کانگریس اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ہر قوم کے شہریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔ کوئی بیرونی طاقت کسی دوسرے ملک میں قیادت مسلط کرنے یا نظام کی تبدیلی انجینئر کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ ایسے اقدامات سامراجیت کے مترادف ہیں اور حقیقی معنوں میں اصولوں پر مبنی عالمی نظام سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined